تشریح : آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے یہود اورنصاریٰ کے درمیان عداوت اور بغض کو بھڑکادیا۔ حدیث کا لفظ اغروابی‘اغرینا ہی کے معنی میں ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لئے لے گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھ کر قرض خواہ نرمی کریں گے مگر ہو ایہ کہ وہ قرض خواہ اور زیادہ پیچھے پڑ گئے کہ ہمارا سب قرض اداکرو۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جابر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ہیں تو اگر جابر سے کل قرضہ ادا نہ ہو سکے گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ادا کردیں گے یا ذمہ داری لے لیں گے ۔ اس غلط خیال کی بنا پر انہوں نے قرض وصول کرنے کے سلسلے میں اور زیادہ سخت رویہ اختیار کیا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے باغ میں دعافرمائی اور جو بھی ظاہر ہوا وہ آپ کا کھلا معجزہ تھا۔ یہ حدیث اوپر کئی بار گزر چکی ہے اور حضرت مجتہد مطلق امام بخاری رضی اللہ عنہ نے اس سے کئی ایک مسائل کا استخراج فرمایا ہے۔ یہاں باب کا مطلب یوں نکلا کہ جابر رضی اللہ عنہ جو اپنے باپ کے وصی تھے‘ انہوں نے اپنے باپ کا قرض ادا کیا‘ اس وقت دوسرے وارث ان کی بہنیں موجود تھیں ان قرض خواہوں نے اپنا نقصان آپ کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کئی بار سمجھایا کہ تم اپنے قرض کے بدل یہ ساری کجھوریں لے لو‘ انہوں نے کجھوروں کو کم سمجھ کر قبول نہ کیا۔
الحمدللہ کہ کتاب الشروط ختم ہو کر آگے کتاب الجہاد شروع ہو رہی ہے۔ جس میں حضرت امام بخاری رضی اللہ عنہ نے مسئلہ جہاد کے اوپر پوری پوری روشنی ڈالی ہے۔ اللہ پاک خیریت کے ساتھ کتاب الجہاد کو ختم کرائے۔
آمین والسلام علی المرسلین والحمداللّٰہ رب العالمین۔