|
صحیح بخاری -> کتاب الوصایا
باب : سورۃ نساءمیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ بے شک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھا جاتے ہیں . . .
ابن ابی حاتم میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث معراج میں منقول ہے کہ آپ نے دوزخ میں ایسے لوگ دیکھے جن کے پیٹ اونٹوں کے پیٹ جیسے ہیں۔ جن میں دوزخ کا دہکتا ہوا پتھر ڈالا جا رہا ہے اور وہ نیچے سے نکل جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال کھاجایا کرتے تھے۔
کبیرہ گناہوں کی تعداد ان سات پر ختم نہیں ہے اور بھی بہت سے گناہ اس ذیل میں بیان کئے گئے ہیں۔ بعض علماءنے ان کی تفصیلات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں‘ بہر حال یہ گناہ ہیں جن کا مرتکب اگربغیر توبہ کے مرگیا تو یقینا وہ ہلاک ہوگیا یعنی جہنم رسید ہوا۔ باب کی مطابقت یتیم کے مال کھانے سے ہے جن کی مذمت آیت مذکورۃ فی الباب میں کی گئی ہے۔ اس حدیث کے جملہ راوی مدنی ہیں اور حضرت امام نے اسے کتاب الطب والمحاربین میں بھی نکالا ہے۔
|