|
صحیح بخاری -> کتاب الوصایا
باب : وصی کے لئے یتیم کے مال میں تجارت اور محنت کرنا درست ہے اور پھر محنت کے مطابق اس میں سے کھالینا درست ہے
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وقف کا متولی اپنی محنت کے عوض دستور کے موافق اس میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا باغ وقف فرماتے وقت طے کر دیا تھا۔ امام قسطلانی فرماتے ہیں ومطابقۃ الحدیث للترجمۃ من جھۃ ان المقصود جوازاخذ الاجرۃ من مال الیتیم لقول عمر ولا جناح علی من ولیہ ان یاکل منہ بالمعروف ( قسطلانی ) مطلب وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
اس حدیث سے باب کا پہلا حصہ یعنی یتیموں کے مال میں نیک نیتی سے تجارت کرنا‘ پھر اپنی محنت کے مطابق اس میں سے کھانا درست ہے۔
|