صحیح بخاری -> کتاب الوصایا

باب : اگر کسی نے یوں کہا کہ میرا گھر اللہ کی راہ میں صدقہ ہے، فقراء وغیرہ کے لئے صدقہ ہونے کی کوئی وضاحت

صدقة لله ولم يبين للفقراء أو غيرهم فهو جائز، ويضعها في الأقربين أو حيث أراد
قراء وغیرہ کے لئے صدقہ ہونے کی کوئی وضاحت نہیں کی تو وقف جائزہوا اب اس کو اختیار ہے اسے وہ اپنے عزیزوں کو بھی دے سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کیونکہ صدقہ کرتے ہوئے کسی کی تخصیص نہیں کی تھی ۔ جب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے اموال میں مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ بیر حاء کا باغ ہے اور وہ اللہ کے راستے میں صدقہ ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دیا تھا ( حالانکہ انہوں نے کوئی تعیین نہیں کی تھی کہ وہ یہ کسے دیں گے ) لیکن بعض لوگ شافعیہ نے کہا کہ جب تک یہ نہ بیان کر دے کہ صدقہ کس لئے ہے ، جائز نہیں ہو گا اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔

حضرت ابو طلحہ نے مجمل طور پر اپنا باغ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس فرماتے ہوئے اسے ان کے قرابتداروں میں تقسیم کرنے کا حکم فرمایا ، کسی قرابتدار کی تخصیص نہیں کی اسی سے مقصد باب ثابت ہوا ۔



کتاب الوصایا