صحیح بخاری -> کتاب الوصایا

باب : کسی نے کہا کہ میری زمین یا میرا باغ میری ( مرحومہ ) ماں کی طرف سے صدقہ ہے

قال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي طلحة حين قال أحب أموالي إلى بيرحاء، وإنها صدقة لله، فأجاز النبي صلى الله عليه وسلم ذلك‏.‏ وقال بعضهم لا يجوز حتى يبين لمن والأول أصح‏.‏
میری زمین یا میرا باغ میری ( مرحومہ ) ماں کی طرف سے صدقہ ہے تو یہ بھی جائز ہے خواہ اس میں بھی اس کی وضاحت نہ کی ہو کہ کس کے لئے صدقہ ہے
حدیث نمبر : 6756
حدثنا محمد، أخبرنا مخلد بن يزيد، أخبرنا ابن جريج، قال أخبرني يعلى، أنه سمع عكرمة، يقول أنبأنا ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ أن سعد بن عبادة ـ رضى الله عنه ـ توفيت أمه وهو غائب عنها، فقال يا رسول الله إن أمي توفيت وأنا غائب عنها، أينفعها شىء إن تصدقت به عنها قال ‏"‏ نعم ‏"‏‏.‏ قال فإني أشهدك أن حائطي المخراف صدقة عليها‏.‏
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم نے خبر دی ، انہوں نے عکرمہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی ماں عمرہ بنت مسعود کا انتقال ہوا تو وہ ان کی خدمت میں موجود نہیں تھے ۔ انہوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! میری والدہ کا جب انتقال ہوا تو میں ان کی خدمت میں حاضر نہیں تھا ۔ کیا اگر میں کوئی چیز صدقہ کروں تو اس سے انہیں فائدہ پہنچ سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہو ں کہ میرا مخراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔

حضرت سعد بن عبادہ غزوہ دومۃ الجندل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے ہوئے تھے‘ پیچھے سے ان کی محترمہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ مخراف اس باغ کا نام تھا یا اس کے معنی بہت میوہ دار کے ہیں۔



کتاب الوصایا