باب : ( سورۃ مائدہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا مسلمانو ! جب تم میں کوئی مرنے لگے توآپس کی گواہی۔۔۔
قول الله تعالى {يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم أو آخران من غيركم إن أنتم ضربتم في الأرض فأصابتكم مصيبة الموت تحبسونهما من بعد الصلاة فيقسمان بالله إن ارتبتم لا نشتري به ثمنا ولو كان ذا قربى ولا نكتم شهادة الله إنا إذا لمن الآثمين * فإن عثر على أنهما استحقا إثما فآخران يقومان مقامهما من الذين استحق عليهم الأوليان فيقسمان بالله لشهادتنا أحق من شهادتهما وما اعتدينا إنا إذا لمن الظالمين * ذلك أدنى أن يأتوا بالشهادة على وجهها أو يخافوا أن ترد أيمان بعد أيمانهم واتقوا الله واسمعوا والله لا يهدي القوم الفاسقين}
” مسلمانو ! جب تم میں کوئی مرنے لگے تو آپس کی گواہی وصیت کے وقت تم میں سے ۔ ( یعنی مسلمانوں میں سے یا عزیزوں میں سے ) دو معتبر شخصوں کی ہونی چاہئے یا اگر تم سفر میں ہو اور وہاں تم موت کی مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ تو غیر ہی یعنی کافر یا جن سے قرابت نہ ہو دو شخص سہی ( میت کے وارثو ) ان دونوں گواہوں کو عصر کی نماز کے بعد تم روک لو اگر تم کو ( ان کے سچے ہونے میں شبہ ہو ) تو وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس گواہی کے عوض دنیا کمانا نہیں چاہتے گو جس کے لئے گواہی دیں وہ اپنا رشتہ دار ہو اور نہ ہم خدا واسطے گواہی چھپائیں گے ، ایسا کریں تو ہم اللہ کے قصور وار ہیں‘ پھر اگر معلوم ہو واقعی یہ گواہ جھوٹے تھے تو دوسرے وہ دو گواہ کھڑے ہوں جو میت کے نزدیک کے رشتہ دار ہوں ( یا جن کو میت کے دونزدیک کے رشتہ داروں نے گواہی کے لائق سمجھا ہو ) وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور ہم نے کوئی ناحق بات نہیں کہی‘ ایسا کیا ہو تو بے شک ہم گنہگار ہوں گے ۔ یہ تدبیر ایسی ہے جس سے ٹھیک ٹھیک گواہی دینے کی زیادہ امید پڑتی ہے یا اتنا تو ضرور ہوگا کہ وصی یا گواہوں کو ڈر رہے گا ایسا نہ ہو ان کے قسم کھانے کے بعد پھر وارثوں کو قسم دی جائے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کا حکم سنو اور اللہ نافرمان لوگوں کو ( راہ پر ) نہیں لگاتا ۔ “
حدیث نمبر : 6780
وقال لي علي بن عبد الله حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا ابن أبي زائدة، عن محمد بن أبي القاسم، عن عبد الملك بن سعيد بن جبير، عن أبيه، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال خرج رجل من بني سهم مع تميم الداري وعدي بن بداء فمات السهمي بأرض ليس بها مسلم، فلما قدما بتركته فقدوا جاما من فضة مخوصا من ذهب، فأحلفهما رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم وجد الجام بمكة فقالوا ابتعناه من تميم وعدي. فقام رجلان من أوليائه، فحلفا لشهادتنا أحق من شهادتهما، وإن الجام لصاحبهم. قال وفيهم نزلت هذه الآية {يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم}
حضرت امام بخاری رضی اللہ عنہ نے کہا مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا ہم سے یحیٰی بن آدم نے‘ کہا ہم سے ابن ابی زائدہ نے‘ انہوں نے محمد بن ابی القاسم سے‘ انہوں نے عبدالملک بن سعید بن جبیر سے‘انہوں نے اپنے باپ سے‘ کہا ہم سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا بنی سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر کو نکلا‘ وہ ایسے ملک میں جاکر مرگیا جہا ں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ یہ دونوں شخص اس کا متروکہ مال لیکر مدینہ واپس آئے ۔ اسکے اسباب میں چاندی کا ایک گلاس گم تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کا حکم فرمایا ( انہوں نے قسم کھالی ) پھر ایسا ہو اکہ وہ گلاس مکہ میں ملا ، انہوں نے کہا ہم نے یہ گلاس تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔ اس وقت میت کے دوعزیز ( عمرو بن عاص اور مطلب کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ یہ ہماری گواہی تمیم اور عدی کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے‘ یہ گلاس میت ہی کا ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ( جو اوپر گزری ) ﴾یایھاالذین امنو اشھادۃ بینکم﴿ آخر آیت تک ۔