صحیح بخاری -> کتاب الوصایا

باب : تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان

وقال الحسن لا يجوز للذمي وصية إلا الثلث‏.‏ وقال الله تعالى ‏{‏وأن احكم بينهم بما أنزل الله‏}‏‏.‏
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ ذمی کافر کے لئے بھی تہائی مال سے زیادہ کی و صیت نافذ نہ ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہ میں فرمایا کہ آپ ان میں غیر مسلموں میں بھی اس کے مطابق فیصلہ کیجئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمایا ہے ۔

تشریح :    ذمی اور مسلمانوں کا ایک ہی حکم ہے کسی کی وصیت تہائی ما ل سے زیادہ نافذ نہ ہوگی ۔ امام مالک اورشافعی اور امام احمد کایہی قول ہے کہ وصیت تہائی مال سے زیادہ میں نافذنہ ہوگی ، اگر میت کے وارث نہ ہو ں تو باقی مال بیت المال میں رکھا جائے گا اور حنفیہ کا یہ قول ہے کہ اگر وارث نہ ہو یا وارث ہوں اور وہ اجازت دیں تو ثلث سے زیادہ میں بھی وصیت نافذ ہو سکتی ہے ۔ ابن بطال نے کہا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے امام حسن بصری کا قول لا کر حنفیہ پر رد کیا اور اسی لئے قرآن کی یہ آیت لائے ( وان احکم بینھم بما انزل ) ( المائدہ : 49 ) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بھی ( بما انزل اللہ ) میں داخل ہے ( وحیدی ) قال ابن بطال اراد البخاری بھذا الرد علی من قال کالحنفیۃ لجوازالوصیۃ بالزیادۃ علی الثلث لمن لا وارث لہ و کذالک احتج بقولہ وان احکم بینھم بما انزل اللہ والذی حکم بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الثلث وھواالحکم بما انزل اللہ فمن تجاوز ما حدہ فقد اتی ما نھی عنہ و قال ابن المنیر لم یرد البخاری ھذا وانما اراد الاستشھاد بالایۃ علی ان الذی اذا تحاکم الینا ورثتہ لا تنفذ من وصیتہ الا بالثلث لانا لا نحکم فیھم الا بحکم الاسلام لقولہ تعالیٰ وان احکم بینھم بما انزل اللہ الایۃ ( فتح الباری ) عبارت کا خلاصہ وہی ہے جو مذکور ہوا۔

حدیث نمبر : 6743
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال لو غض الناس إلى الربع، لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ الثلث، والثلث كثير أو كبير ‏"‏‏.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا‘ ان سے ہشام بن عروہ نے‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا‘ کاش! لوگ ( وصیت کو ) چوتھائی تک کم کر دیتے تو بہتر ہوتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم تہائی ( کی وصیت کر سکتے ہو ) اورتہائی بھی بہت ہے یا۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) یہ بڑی رقم ہے۔
حدیث نمبر : 6744
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا زكرياء بن عدي، حدثنا مروان، عن هاشم بن هاشم، عن عامر بن سعد، عن أبيه ـ رضى الله عنه ـ قال مرضت فعادني النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ادع الله أن لا يردني على عقبي‏.‏ قال ‏"‏ لعل الله يرفعك وينفع بك ناسا ‏"‏‏.‏ قلت أريد أن أوصي، وإنما لي ابنة ـ قلت ـ أوصي بالنصف قال ‏"‏ النصف كثير ‏"‏‏.‏ قلت فالثلث‏.‏ قال ‏"‏ الثلث، والثلث كثير أو كبير ‏"‏‏.‏ قال فأوصى الناس بالثلث، وجاز ذلك لهم‏.‏
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا‘ کہا ہم سے زکریابن عدی نے بیان کیا‘ ان سے مروان بن معاویہ نے‘ ان سے ہاشم ابن ہاشم نے‘ ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے باپ سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ میں مکہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیلئے تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لئے دعاکیجئے کہ اللہ مجھے الٹے پاؤں واپس نہ کردے ( یعنی مکہ میں میری موت نہ ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صحت دے اورتم سے بہت سے لوگ نفع اٹھائیں۔ میں نے عرض کیا میرا ارادہ وصیت کرنے کا ہے۔ اےک لڑکی کے سوا اور میرے کوئی ( اولاد ) نہیں ۔ میں نے پوچھاکیا آدھے مال کی وصیت کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدھا تو بہت ہے۔ پھر میں نے پوچھا تو تہائی کی کردوں؟ فرمایا کہ تہائی کی کرسکتے ہو اگر چہ یہ بھی بہت ہے یا ( یہ فرمایا کہ ) بڑی ( رقم ) ہے۔ چنانچہ لوگ بھی تہائی کی وصیت کرنے لگے اور یہ ان کیلئے جائز ہوگئی۔

اس حدیث سے بھی تہائی تک کی وصیت کرنا جائز ثابت ہوا‘ ساتھ یہ بھی کہ شارع کا منشا وارثوں کے لئے زیادہ سے زیادہ مال چھوڑنا ہے تاکہ وہ پیچھے محتاج نہ ہوں‘ وصیت کرتے وقت وصیت کرنے والوں کو یہ امرملحوظ رکھنا ضروری ہے۔



کتاب الوصایا