صحیح بخاری -> کتاب الوصایا

باب : اگر وقف کرنے والا مال وقف کو ( اپنے قبضہ میں رکھے ) دوسرے کے حوالہ نہ کرے تو جائز ہے

لأن عمر ـ رضى الله عنه ـ أوقف وقال لا جناح على من وليه أن يأكل، ولم يخص إن وليه عمر أو غيره‏.‏ قال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي طلحة ‏"‏ أرى أن تجعلها في الأقربين ‏"‏‏.‏ فقال أفعل‏.‏ فقسمها في أقاربه وبني عمه‏.‏
اس لئے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ( خیبر کی اپنی زمین ) وقف کی اور فرمایا کہ اگر اس میں سے اس کا متولی بھی کھائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ یہاں آپ نے اس کی کوئی تخصیص نہیں کی تھی کہ خود آپ ہی اس کے متولی ہوں گے یا کوئی دوسرا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ میرا خیال ہے کہ تم اپنی زمین ( باغ بیر حاءصدقہ کرنا چاہتے ہو تو ) اپنے عزیزوں کو دے دو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں ایسا ہی کروں گا ۔ چنانچہ انہوں نے اپنے عزیزوں اور چچا کے لڑکو ں میں بانٹ دیا ۔

تشریح :    تو معلوم ہوا کہ وقف کرنے والا اپنے وقف کو اپنے قبضہ میں بھی رکھ سکتا ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فعل سے ثابت ہے ۔ جمہور علماءکا یہی قول ہے اور مالکیہ وغیرہ کے نزدیک وقف اس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک مال وقف کو اپنے قبضہ سے نکال کر دوسرے کے قبضے میں نہ دے ۔ جمہور کی دلیل حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے افعال ہیں ان سب نے اپنے اوقاف کو اپنے ہی قبضہ میں رکھا تھا ۔ اس کا نفع خیرات کے کاموں میں صرف کرتے ۔ باب کے تحت ذکر کردہ اثر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود بھی متولی رہ سکتے تھے کیو نکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ متولی ہوسکے تو ان کو اس میں سے کھانا بھی درست ہوگا ، باب کا یہی مطلب ہے ۔ اس لئے وقف کو عام اور خاص دو قسموں پر تقسیم کیا گیا ہے جس سے مرا د وہ اوقا ف ہوتے ہیں جن کا اصل مقصد کچھ تو امور دینی اور کار ہائے خیر میں امداد کرنا ہے اور کچھ خاص اشخاص یا خاص کسی جماعت کی نفع رسانی ہے ۔ وقف خاص جن کا مقصود اصلی واقف کے عیال واطفال یا اقرباءکے لئے آذوقہ مہیا کرنا ہو ، لغوی معنی وقف کے باندھ دینا ، حبس کر دینا ہے اور اصل میں یہ لفظ گھوڑے اور اونٹ وغیرہ کے باندھنے میں استعمال کیا جاتا ہے اور علمائے اسلام کی اصطلاح میں وقف سے مراد کسی کار خیر کے لئے اپنا مال دے دینا ۔ وقف کی تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ کسی جائداد مثل اراضی ومکانات و غیرہ کے حق ملکیت سے دست بردار رہ کر راہ خدا میں اس کو اس طرح سے دے دینا کہ بندگان خدا کو اس سے فائدہ ہو بشرطیکہ مال موقوف وقف کرنے کے وقت واقف کا اپنا ہو ۔ واقف اپنے قبض و ملک کی شرط بھی لگا سکتا ہے ۔ کسی دوسرے مقام پر اس کی تفصیل آئے گی ۔



کتاب الوصایا