|
صحیح بخاری -> کتاب الوصایا
باب : وصیت کرنے والا اپنے وصی سے کہے کہ میرے بچے کی دیکھ بھال کرتے رہنا اوروصی کے لئے کس طرح کے دعوے جائز ہیں؟
تشریح : ترجمہ باب اس سے نکلا کہ عتبہ نے کہا میرے لڑکے کا خیال رکھو‘ اس کو لے لینا اور سعد نے جو اپنے بھائی کے وصی تھے اس کا دعویٰ کیا۔ اس بچے کا نام عبد الرحمٰن تھا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کردیا کہ وہ زمعہ کا بیٹا ہے تو سودہ کا بھائی ہوا مگر چونکہ اس کی صورت عتبہ سے ملتی تھی اس لئے احتیاطاً حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا۔
|