صحیح بخاری -> کتاب الوصایا

باب : اگر کسی کو اچانک موت آجائے تو اس کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی نذروں کو پوری کرنا

حدیث نمبر : 6760
حدثنا إسماعيل، قال حدثني مالك، عن هشام، عن أبيه، عن عائشة، رضى الله عنها أن رجلا، قال للنبي صلى الله عليه وسلم إن أمي افتلتت نفسها، وأراها لو تكلمت تصدقت، أفأتصدق عنها قال ‏"‏ نعم، تصدق عنها ‏"‏‏.‏
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیا ن کیا‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا‘ ان سے ہشام نے‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی ( سعد بن عبادہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری والدہ کی موت اچانک واقع ہوگئی‘ میرا خیال ہے کہ اگر انہں گفتگوکاموقع ملتاتو وہ صدقہ کرتیں توکیا میں ان کی طرف سے خیرات کرسکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ان کی طرف سے خیرات کر۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ورثاءکی طرف سے میت کو خیرات اورصدقے کا ثواب پہنچتا ہے۔ اہلحدیث کا اس پر اتفاق ہے لیکن معتزلہ نے اس کا انکار کیا ہے۔ دوسری روایت میں ہے سعد نے پوچھا کونسی خیرات افضل ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پلانا۔ اس کوامام نسائی نے روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر : 6761
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ أن سعد بن عبادة ـ رضى الله عنه ـ استفتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إن أمي ماتت وعليها نذر‏.‏ فقال ‏"‏ اقضه عنها ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا‘ کہاکہ ہم کو امام مالک نے خبردی ابن شہاب سے‘ انہیں عبید اللہ بن عبداللہ نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا‘ انہوں نے عرض کیا کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے ذمہ ایک نذر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی طرف سے نذر پوری کردے۔

باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ماں کی نذر پورا کرنے کا حکم فرمایا‘ معلوم ہوا کہ ماں باپ کے اس قسم کے فرائض کی ادائیگی اولاد پر لازم ہے۔



کتاب الوصایا