|
صحیح بخاری -> کتاب الوصایا
باب : اگر کسی کو اچانک موت آجائے تو اس کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی نذروں کو پوری کرنا
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ورثاءکی طرف سے میت کو خیرات اورصدقے کا ثواب پہنچتا ہے۔ اہلحدیث کا اس پر اتفاق ہے لیکن معتزلہ نے اس کا انکار کیا ہے۔ دوسری روایت میں ہے سعد نے پوچھا کونسی خیرات افضل ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پلانا۔ اس کوامام نسائی نے روایت کیا ہے۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ماں کی نذر پورا کرنے کا حکم فرمایا‘ معلوم ہوا کہ ماں باپ کے اس قسم کے فرائض کی ادائیگی اولاد پر لازم ہے۔
|