|
صحیح بخاری -> کتاب الوصایا
باب : کیا وقف کرنے والا اپنے وقف سے خود بھی وہ فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
تشریح : واقف اپنے وقف سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جب اس چیز کو خود اپنے اوپر اور نیز دوسروں پر وقف کردیا ہویا وقف میں ایسی شرط کرلی ہو یا اس میں سے ایک حصہ اپنے لئے خاص کرلیا ہو یا متولی کو کچھ دلایا ہو اور خود ہی متولی ہو۔ قسطلانی نے کہاشافعیہ کا صحیح مذہب یہ ہے کہ اپنی ذات پر وقف کرنا باطل ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اثر کتاب الشروط میں موصولاً گزرچکا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے یہ نکالا کہ جب وقف کے متولی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کھانے کی اجازت دی تو خود وقف کرنے والے کو بھی اس میں سے کھانا یا کچھ فائدہ لینا درست ہوگا۔ اس لئے کہ کبھی وقف کرنے والا خود اس جائداد کا متولی ہوتا ہے ۔ آخری مضمون میں اختلاف ہے۔ بعضوں نے کہا کہ اگر کوئی چیز فقیروں پر وقف کی اور وقف کرنے والا فقیر نہیں ہے تواس سے فائدہ اٹھانا درست نہیں۔ البتہ اگر وہ فقیر ہوجائے یا اس کی اولاد میں سے کوئی فقیرہو جائے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے‘ یہی مختار ہے۔


اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ نکالا کہ وقفی چیز سے خود وقف کرنے والا بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے ، جانور پر مکان کو بھی قیاس کر سکتے ہیں ۔ اگر کوئی مکان وقف کرے تو اس میں خود بھی رہ سکتا ہے۔ یہ بھی ظاہر ہوا کہ قربانی کے جانور پر بوقت ضرورت سواری کی جا سکتی ہے ، اگر وہ دودھ دینے والا جانور ہے تو اس کا دودھ بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے و۔ وہ جانور برائے قربانی متعین کرنے کے بعد عضو معطل نہیں بن جاتا ۔ عام طور پر مشرکین اپنے شرکیہ افعال کے لئے موسوم کردہ جانوروں کو بالکل آزاد سمجھنے لگ جاتے ہیں جو ان کی نادانی کی دلیل ہے ، غیر اللہ کے ناموں پر اس طرح جانور چھوڑنا شرک ہے ۔
|