صحیح بخاری -> کتاب الوصایا

باب : سورۃ نساء میں اللہ کا یہ ارشاد کہ اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو . . .

قول الله تعالى ‏{‏وابتلوا اليتامى حتى إذا بلغوا النكاح فإن آنستم منهم رشدا فادفعوا إليهم أموالهم ولا تأكلوها إسرافا وبدارا أن يكبروا ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف فإذا دفعتم إليهم أموالهم فأشهدوا عليهم وكفى بالله حسيبا * للرجال نصيب مما ترك الوالدان والأقربون وللنساء نصيب مما ترك الوالدان والأقربون مما قل منه أو كثر نصيبا مفروضا‏}‏ حسيبا يعني كافيا
” اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں تو اگر تم ان میں صلاحیت دیکھ لو تو ان کے حوالے ان کا مال کردو اور ان کے مال کو جلد جلد اسراف سے اور اس خیال سے کہ یہ بڑے ہوجائےں گے مت کھاڈالو‘ بلکہ جو شخص مالدار ہو تو یتیم کے مال سے بچارہے اور جو شخص نادار ہو وہ دستور کے موافق اس میں سے کھا سکتا ہے اور جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ بھی کرلیا کرو اور اللہ حساب کرنے والا کافی ہے۔ مردوں کے لئے بھی اس ترکہ میں حصہ ہے جس کو والدین اور نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لئے بھی اس ترکہ میں حصہ ہے جس کو والدین اور نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں۔ اس ( متروکہ ) میں سے تھوڑا یا زیادہ ضرور ایک حصہ مقرر ہے “ آیت میں حَسِیباً کے معنی کافی کے ہیں۔

جاہلیت کے زمانہ میں عرب لوگ ترکہ میں صرف مردوں کا حق سمجھتے تھے‘ عورتوں کو کوئی حصہ نہیں ملتاتھا۔ اللہ نے یہ بری رسم باطل کردی اور عورت مرد سب کاحصہ مقرر کردیا‘ اب بھی بہت سی جاہل قوموں میں جو مسلمان ہیں مگر لڑکی کا حصہ دینے کا رواج نہیں ہے۔ یہ سراسر ظلم اور باطل رسم ہے‘ لڑکی کو بھی اسلام نے حصہ دار ٹھہرایا ہے‘ اس کا بھی حصہ ادا کرنا ضروری ہے‘ اسلام اور ادیان سابقہ میں عورتوں کی حیثیت پر ایک پراز معلومات مقالہ آنریبل مولوی سید امیر علی ایم۔ اے بیر سڑایٹ لاءنے اپنی قانونی کتاب ” جامع الاحکام فی فقہ الاسلام “ میں حوالہءقلم کیا ہے جس کا اختصار درج ذیل ہے۔

” جو اصلاحیں شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائیں ان سے عورتوں کی حالت میں نمایاں ترقی واقع ہوئی‘ عرب میں بھی اور ان یہودیوں میں جو جزیزہ نمائے عرب میں سکونت پذیر تھے۔ عورتوں کی حالت بہت ہی ابتر تھی۔ عورت اپنے باپ کے گھر میں کنیز کی حالت میں رہتی تھی اور اگر وہ نابالغ ہوتی تو اس کے باپ کو اس کے بیچ ڈالنے کا اختیار ہوتاتھا۔ اس کا باپ اور باپ کی وفات کے بعد اس کا بھائی جو چاہتا تھا اس کے ساتھ سلوک کرتا تھا بجز کسی خاص صورت کے بیٹی بالکل محجوب الارث تھی۔ مشرکین عرب میں عورت صرف ایک جائداد منقولہ سمجھی جاتی تھی اور اپنے باپ یا شوہر کی ملکیت کا ایک جز واعظم تصور کی جاتی تھی اور ہر شخص کی بیوی مثل اور متروکہ کے اس کی بیٹی اور بیٹیوں کو بطور ترکہ پدری کے ملتی تھیں‘ اسی وجہ سے سوتیلی ماؤں کی شادیاں اکثر سوتیلے بیٹوں کے ساتھ ہوجاتی تھیں‘ اس قبیح رسم کو اسلام میں حرام کردیا گیا۔

شرع محمدی کے بموجب عورت کی حیثیت انگلستان کی عورتوں کی حالت سے بہتر و برتر ہے جب تک وہ ناکتخدارہتی ہے‘ اپنے باپ کے گھر میں رہتی ہے اور جب تک نابالغ رہتی ہے کسی قدر اپنے باپ کے یا اس کے قائم مقام کے اختیار رہتی ہے‘ بالغ ہوجانے پر اس کو وہ تمام حقوق شرعی حاصل ہوجاتے ہیں جو بالغ اور رشید انسان کو ملنے چاہئیں وہ اپنے بھائیوںکے ساتھ ماں باپ کے ترکہ میں حصہ پاتی ہے اور اگر چہ بیٹے اور بیٹی کے حصہ میں فرق ہے مگر یہ فرق بھائی اور بہن کے حالات کا منصفانہ لحاظ کرکے رکھا گیا ہے۔ شادی کے بعد بھی اس کے تشخص میں کچھ فرق نہیں آتا اور وہ ایک جداگانہ ممبر یعنی شریک سوسائٹی کی حیثیت میں باقی رہتی ہے اور اس کا وجود اس کے شوہر کے وجود کے ساتھ اسیختہ نہیں ہوجاتا‘ اس کا مال اس کے شوہر کا مال نہیں ہوجاتا بلکہ اس کا مال اسی کا رہتا ہے اور وہ ایک ذاتی حق اپنی ملکیت میں رکھتی ہے‘ وہ اپنے قرضداروں پر علانیہ عدالت میں نالش کر سکتی ہے اور کسی ولی کو شریک کرنے یا اپنے شوہر کے نام سے نالش کرنے کی ضرورت نہیں رکھتی۔ جب وہ اپنے باپ کے گھر سے اپنے شوہر کے مکان میں جاچکتی ہے تب بھی اس کو سب حقوق شرعی وہی حاصل رہتے ہیں جو مردوں کو حاصل ہیں تمام ہواجب اور حقوق جو ایک عورت اور زوجہ کو حاصل ہونے چاہئیں اس کو صرف مروت اور اخلاق کی رو سے حاصل نہیں ہیں جس کا کچھ اعتبار نہیں ہے بلکہ نص قرآنی کے بموجب حاصل ہیں۔ وہ اپنی جائداد کو بلا اجازت شوہر منتقل کر سکتی ہے اور وہ وصیت کر سکتی ہے‘ وہ اوروں کی جائداد کی وصیہ اور منتظمہ مقرر ہو سکتی ہے اور اوقاف کی متولیہ بھی مقرر ہوسکتی ہے۔



کتاب الوصایا