صحیح بخاری -> کتاب الوصایا

باب : وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے

تشریح :    یہ مضمون صراحتاً ایک حدیث میں وارد ہے جس کو اصحاب سنن وغیرہ نے امامہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے مگر اس کی سند میں کلام ہے‘ اسی لئے حضرت امام بخاری اس کو نہ لا سکے ۔ امام شافعی نے اس روایت کو متواتر کہا ہے اور فخرالدین رازی نے اس کا انکار کیا ہے۔

حدیث نمبر : 6747
حدثنا محمد بن يوسف، عن ورقاء، عن ابن أبي نجيح، عن عطاء، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال كان المال للولد، وكانت الوصية للوالدين، فنسخ الله من ذلك ما أحب، فجعل للذكر مثل حظ الأنثيين، وجعل للأبوين لكل واحد منهما السدس، وجعل للمرأة الثمن والربع، وللزوج الشطر والربع‏.‏
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ورقاءسے‘ انہوں نے ابن ابی نجیح سے‘ ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ شروع اسلام میں ( میراث کا ) مال اولاد کو ملتا تھا اور والدین کے لئے وصیت ضروری تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح چاہا اس حکم کو منسوخ کر دیا پھر لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر قرار دیا اور والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور بیوی کا ( اولاد کی موجودگی میں ) آٹھواں حصہ اور ( اولاد کے نہ ہونے کی صورت میں ) چوتھا حصہ قراردیا۔ اسی طرح شوہر کا ( اولاد نہ ہونے کی صورت میں ) آدھا ( اولاد ہونے کی صورت میں ) چوتھائی حصہ قرار دیا۔

اس صور ت میں وصیت کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہا۔



کتاب الوصایا