|
صحیح بخاری -> کتاب الوصایا
باب : وقف کی سند کیوں کر لکھی جائے
اس روایت میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وقف کی یہ شرطیں لکھوادیں مگر امام بخاری نے اس روایت کی طرف اشارہ کیا جس کو ابو داؤد نے نکالا۔ اس میں یوں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ شرطیں معیقیب کی قلم سے لکھوادیں جس میں یہ تھا کہ اصل جائداد کو کوئی بیع یا ہبہ نہ کرسکے‘ اسی کو وقف کہتے ہیں۔ ناطے والوں میں مالدار اور نادار سب آگئے توباب کا مقصد نکل آیا ( وحیدی ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ 7 ھ سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ نے شروع میں اس کا متولی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ ام المو منین کو بنایا تھااور یہ لکھا تھا کہ ھذا ما کتب عبداللّٰہ عمر امیر المومنین فی ثمغ انہ الی حفصۃ ما عاشت تنفق ثمرہ حیث اراھا اللّٰہ فان توفیت فالی ذوی الرای من اھلھا وقف نامہ کا متن لکھنے والے معیقیب تھے اور گواہ عبداللہ بن ارقم۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عہد میں یہ زبانی وقف تھا‘ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد حکومت میں اسے باضابطہ تحریر کرادیا ( فتح الباری )
|