|
صحیح بخاری -> کتاب الوصایا
باب : جانور اور گھوڑے اور سامان اور سونا چاندی وقف کرنا
ترجمۃ الباب کا مقصد جائداد منقولہ کا وقف کرنا ہے ۔ کراع کاف کے ضمہ کے ساتھ گھوڑوں کو کہا جاتاہے ۔ لفظ عروض نقدی کے علاوہ دیگر اسباب پر بولاجاتا ہے اور صامت سونے چاندی پر مستعمل ہے ( فتح ) خلاصہ یہ کہ جائداد منقولہ اور غیر منقولہ بشرائط معلومہ سب کا وقف کرنا جائز ہے ۔ کیونکہ وہ اشرفیاں اللہ کی راہ میں نکالیں تو گویا صدقہ کر دیں ، اب صدقے کا مال اپنے خرچ میں کیو نکر لا سکتا ہے ، اس اثر کو ابن وہب نے اپنے مؤطا میں وصل کیا ہے ( وحیدی )
گو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ گھوڑا صدقہ دیا تھا مگر وقف کا حکم بھی صدقہ پر قیاس کیا‘ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وقف میں اصل جائداد روک لی جاتی ہے اور صدقہ میں اصل جائداد کی ملکیت منتقل کی جاتی ہے‘ اس لئے یہ قیاس صحیح نہیں۔ اب یہ کہنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ گھوڑا وقف کیا تھا‘اس لئے صحیح نہیں ہوسکتا کہ اگر وقف کیا ہوتا تو وہ شخص جس کو گھوڑا ملا تھا‘ اس کو بیچنے کے لئے بازار میں کیونکر کھڑا کر سکتا۔
|