|
صحیح بخاری -> کتاب الوصایا
باب : اگر کسی نے ایک زمین وقف کی ( جو مشہور و معلوم ہے ) اس کی حدیں بیان نہیں کیں تو یہ جائز ہوگا‘ اسی طرح ایسی زمین کا صدقہ دینا
ترجمہ باب کی مطابقت صاف ظاہر ہے کہ ابو طلحہ نے بیرحاءکو صدقہ کردیا۔ اس کے حدود بیان نہیں کئے کیونکہ بیرحاءباغ مشہورو معروف تھا‘ ہر کوئی اس کو جانتا تھا اگر کوئی ایسی زمین وقف کرے کہ وہ معروف و مشہور نہ ہو تب تو اس کی حدود بیان کرنی ضروری ہیں لفظ بیرحاءدو کلموں سے مرکب ہے پہلا کلمہ بیئر ہے جس کے معنی کنویں کے ہیں دوسرا کلمہ حاءہے اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ کسی مرد یا عورت کا نام ہے یا کسی جگہ کا نام جس کی طرف یہ کنواں منسوب کیا گیا ہے یا یہ کلمہ اونٹوں کے ڈانٹنے کے لئے بولا جاتا تھا اور اس جگہ اونٹ بکثرت چرائے جاتے تھے‘ لوگ ان کو ڈانٹنے کیلئے لفظ حاءکا استعمال کرتے ۔ اسی سے یہ لفظ بیرحاءمل کر ایک کلمہ بن گیا۔ پھر حضرت ابو طلحہ کا سارا باغ ہی اس نام سے موسوم ہوگیا کیونکہ یہ کنواں اس کے اندر تھا لفظ بخ بخواہ واہ کی جگہ بولا جاتا تھا۔
یہاں بھی اس باغ کی حدود کو بیان نہیں کیا گیا۔ اس سے مقصد باب ثابت ہوا۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ ایصال ثواب کیلئے کنواں یا کوئی باغ وقف کردینا بہترین صدقہ جاریہ ہے کہ مخلوق اس سے فائدہ حاصل کرتی رہے گی اور جس کیلئے بنایا گیا اس کو ثواب ملتا رہے گا۔
|