|
صحیح بخاری -> کتاب الوصایا
باب : اس بارے میں وصیتیں ضروری ہیں
وصیت کہتے ہیں مرتے وقت آدمی کا کچھ کہہ جانا کہ میرے بعد ایسا ایسا کرنا‘ فلاں کو یہ دینا فلاں کو یہ۔ وصیت کرنے والے کو موصی اور جس کے لئے وصیت کی ہو اس کو موصی لہ کہتے ہیں۔ آیت میراث نازل ہونے کے بعد صرف تہائی مال میں وصیت کرنا جائز قرار دیا گیا‘ باقی مال حصہ داروں میں تقسیم ہوگا۔

تشریح : آیت شریفہ کتب عليکم اذا حضر احد کم الموت ان ترک خير االوصي ( البقرہ: 180 ) آیت میراث سے پہلے نازل ہوئی۔ اس وقت وصیت کرنا فرض تھا۔ جب میراث کی آیت اتری تو وصیت کی فرضیت جاتی رہی اور وارث کے لئے وصیت کرنا منع ہوگیا جیسا کہ عمروبن خارجہ کی روایت میں ہے ان اللہ اعطٰے کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث ( اخرجہ اصحاب السنن ) اور‘ غیر وارث کے لئے وصیت جائز رہ گئی۔ آیت شریفہ ( فمن بدلہ‘ بعد ما سمعہ ) ( البقرہ : 181 ) کا مطلب یہ ہے کہ وصیت بدل دینا گناہ ہے مگر جس صورت میں موصی نے خلاف شریعت وصیت کی ہو اور ثلث سے زائد کسی کو دلاکر وارث کا حق تلف کیا ہو تو ایسی غلط وصیت کو بدل ڈالنا منع نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ موصی لہ اور دیگر وارثوں میں صلح صفائی کرا دے اور مطابق شریعت فیصلہ کرکے وصیت کی اصلاح کر دے ۔ وصیت الرجل مکتوب عندہ یہ مضمون خود باب کی حدیث میں آگے آرہا ہے مگر اس میں مرءکا لفظ اور لفظ رجل کے ساتھ یہ حدیث نہیں ملی۔ شاید حضرت امام بخاری رضی اللہ عنہ نے اسے بالمعنی روایت کیا ہو کیونکہ مرء رجل ہی کو کہتے ہیں اور رجل کی قید اعتبار اکثر کے ہے ورنہ عورت اور مرددونوں کی وصیت صحیح ہونے میں کوئی فرق نہیں‘ اسی طرح نابالغ کی وصیت بھی صحیح ہے‘ جب وہ عقل اور ہوش رکھتا ہو ۔ ہمارے امام احمد بن حنبل اور امام مالک کا یہی قول ہے لیکن حنفیہ اور شافعیہ نے اس کو جائز کہاں رکھا ہے امام احمد نے ایسے لڑکے کی عمر کا اندازہ سات برس یا دس برس کا کیا ہے۔ وصیت کا ہر وقت لکھا ہوا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے نہ معلوم کب اللہ پاک کا حکم ہو اور انسان کا اخروی سفر شروع ہوجائے‘ لہذا لازم ہے کہ اس سفر کے لئے ہر وقت تیار رہے اور اپنے بعد کے لئے ضروری معاملات کے واسطے اسے جو بہتر معلوم ہو وہ لکھا ہوا اپنے پاس تیار رکھے۔ حدیث کن فی الدنیا کانک غریب کا بھی یہی مطلب ہے کہ دنیامیں ہر وقت مسافرانہ زندگی گزارونہ معلوم کب کوچ کا وقت آجائے۔

یعنی اپنی صحت کی حالت میں آپ نے یہ زمین وقف فرمادی تھی پھر وفات کے وقت بھی اس کی تاکید فرمادی۔ بعضوں نے کہاوجعلھا صدقۃکی ضمیر تینوں کی طرف پھرتی ہے یعنی خچر، ہتھیار اور زمین سب کو وقف کردیا تھا۔
اس حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے یوں ہے کہ وقف کا اثر مرنے کے بعد بھی رہتا ہے تو وہ وصیت کے حکم میں ہوا۔
تشریح : باب کا مطلب اس سے نکلا کہ لوگوں پر وصیت کیسے فرض ہوئی۔ اللہ کی کتاب پر چلنے کا حکم ایک جامع وصیت ہے جو شریعت کے سارے احکام کو شامل ہے‘ جب تک مسلمان اس وصیت پہ قائم رہے اور قرآن وحدیث پر چلتے رہے ان کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی اور جب قرآن وحدیث کو پس و پشت ڈال دیا اور ہر ایک نے اپنی رائے اور قیاس کو اصل بنایا۔ چھوٹ پڑ گئی‘ الگ الگ مذہب بن گئے اور ہر جگہ مسلمان متفرق ہو کر مغلوب ہوگئے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ جزیرئہ عرب کو یہودیوں سے پاک کردینا‘ ذمی کافروں کی ہر ممکن خاطر مدارات کرنا جیسے کہ میں کرتا ہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق وصی ہونے کی کوئی صحیح حدیث کسی بھی مستند کتا ب میں منقول نہیں ہے۔
حضرت عائشہ کا مطلب یہ ہے کہ بیماری سے لے کر وفات تک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہی پاس رہے‘ میری ہی گود میں انتقال فرمایا‘ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصی بناتے یعنی اپنا خلیفہ مقرر کرتے جیسے شیعہ گمان کرتے ہیں تو مجھ کو تو ضرور خبر ہوتی پس شیعوں کا یہ دعویٰ بالکل بلا دلیل ہے۔
|