صحیح بخاری -> کتاب الوصایا

باب : اس بارے میں وصیتیں ضروری ہیں

وقول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وصية الرجل مكتوبة عنده ‏"‏‏.‏ وقول الله تعالى ‏{‏كتب عليكم إذا حضر أحدكم الموت إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين بالمعروف حقا على المتقين * فمن بدله بعد ما سمعه فإنما إثمه على الذين يبدلونه إن الله سميع عليم * فمن خاف من موص جنفا أو إثما فأصلح بينهم فلا إثم عليه إن الله غفور رحيم‏}‏‏.‏ جنفا ميلا، متجانف مائل‏.‏
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کی وصیت لکھی ہوئی ہونی چاہیے
اور اللہ تعالی نے سورہ بقرہ میں فرمایا کہ ” تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی معلوم ہو اور کچھ مال بھی چھوڑرہا ہو تو وہ والدین اور عزیزوں کے حق میں دستور کے موافق وصیت کرجائے۔ یہ لازم ہے پرہیزگاروں پر۔ پھر جو کوئی اسے اس کے سننے کے بعد بدل ڈالے سو اس کا گناہ اسی پر ہوگا جو اسے بدلے گا‘ بے شک اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔ البتہ جس کسی کو وصیت کرنے والے سے متعلق کسی کی طرفداری یا حق تلفی کا علم ہوجائے پھر وہ موصی لہ اور وارثوں میں ( وصیت میں کچھ کمی کر کے ) میل کرادے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑا بخشش کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے ( آیت میں ) جنفاکے معنی ایک طرف جھک جانے کے ہیں‘ متجانف کے معنی جھکنے والے کے ہیں۔

وصیت کہتے ہیں مرتے وقت آدمی کا کچھ کہہ جانا کہ میرے بعد ایسا ایسا کرنا‘ فلاں کو یہ دینا فلاں کو یہ۔ وصیت کرنے والے کو موصی اور جس کے لئے وصیت کی ہو اس کو موصی لہ کہتے ہیں۔ آیت میراث نازل ہونے کے بعد صرف تہائی مال میں وصیت کرنا جائز قرار دیا گیا‘ باقی مال حصہ داروں میں تقسیم ہوگا۔

حدیث نمبر : 6738
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ ما حق امرئ مسلم له شىء، يوصي فيه يبيت ليلتين، إلا ووصيته مكتوبة عنده ‏"‏‏.‏ تابعه محمد بن مسلم عن عمرو عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی نافع سے‘ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے جن کے پاس وصیت کے قابل کوئی بھی مال ہو درست نہیں کہ دو رات بھی وصیت کو لکھ کر اپنے پاس محفوظ رکھے بغیر گزارے۔ امام مالک کے ساتھ اس روایت کی متابعت محمد بن مسلم نے عمر و بن دینار سے کی ہے‘ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔

تشریح :    آیت شریفہ کتب عليکم اذا حضر احد کم الموت ان ترک خير االوصي ( البقرہ: 180 ) آیت میراث سے پہلے نازل ہوئی۔ اس وقت وصیت کرنا فرض تھا۔ جب میراث کی آیت اتری تو وصیت کی فرضیت جاتی رہی اور وارث کے لئے وصیت کرنا منع ہوگیا جیسا کہ عمروبن خارجہ کی روایت میں ہے ان اللہ اعطٰے کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث ( اخرجہ اصحاب السنن ) اور‘ غیر وارث کے لئے وصیت جائز رہ گئی۔ آیت شریفہ ( فمن بدلہ‘ بعد ما سمعہ ) ( البقرہ : 181 ) کا مطلب یہ ہے کہ وصیت بدل دینا گناہ ہے مگر جس صورت میں موصی نے خلاف شریعت وصیت کی ہو اور ثلث سے زائد کسی کو دلاکر وارث کا حق تلف کیا ہو تو ایسی غلط وصیت کو بدل ڈالنا منع نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ موصی لہ اور دیگر وارثوں میں صلح صفائی کرا دے اور مطابق شریعت فیصلہ کرکے وصیت کی اصلاح کر دے ۔ وصیت الرجل مکتوب عندہ یہ مضمون خود باب کی حدیث میں آگے آرہا ہے مگر اس میں مرءکا لفظ اور لفظ رجل کے ساتھ یہ حدیث نہیں ملی۔ شاید حضرت امام بخاری رضی اللہ عنہ نے اسے بالمعنی روایت کیا ہو کیونکہ مرء رجل ہی کو کہتے ہیں اور رجل کی قید اعتبار اکثر کے ہے ورنہ عورت اور مرددونوں کی وصیت صحیح ہونے میں کوئی فرق نہیں‘ اسی طرح نابالغ کی وصیت بھی صحیح ہے‘ جب وہ عقل اور ہوش رکھتا ہو ۔ ہمارے امام احمد بن حنبل اور امام مالک کا یہی قول ہے لیکن حنفیہ اور شافعیہ نے اس کو جائز کہاں رکھا ہے امام احمد نے ایسے لڑکے کی عمر کا اندازہ سات برس یا دس برس کا کیا ہے۔ وصیت کا ہر وقت لکھا ہوا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے نہ معلوم کب اللہ پاک کا حکم ہو اور انسان کا اخروی سفر شروع ہوجائے‘ لہذا لازم ہے کہ اس سفر کے لئے ہر وقت تیار رہے اور اپنے بعد کے لئے ضروری معاملات کے واسطے اسے جو بہتر معلوم ہو وہ لکھا ہوا اپنے پاس تیار رکھے۔ حدیث کن فی الدنیا کانک غریب کا بھی یہی مطلب ہے کہ دنیامیں ہر وقت مسافرانہ زندگی گزارونہ معلوم کب کوچ کا وقت آجائے۔

حدیث نمبر : 6739
حدثنا إبراهيم بن الحارث، حدثنا يحيى بن أبي بكير، حدثنا زهير بن معاوية الجعفي، حدثنا أبو إسحاق، عن عمرو بن الحارث، ختن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخي جويرية بنت الحارث قال ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم عند موته درهما ولا دينارا ولا عبدا ولا أمة ولا شيئا، إلا بغلته البيضاء وسلاحه وأرضا جعلها صدقة‏.‏
ہم سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ ابن ابی بکیر نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ جعفی نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے ابو اسحاق عمروبن عبد اللہ نے بیان کیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسبتی بھائی عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے جو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہ ( ام المومنین ) کے بھائی ہیں‘ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے بعد سوائے اپنے سفید خچر‘ اپنے ہتھیار اور اپنی زمین کے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقف کر گئے تھے نہ کوئی درہم چھوڑا تھا نہ دینار نہ غلام نہ باندی اور نہ کوئی چیز۔

یعنی اپنی صحت کی حالت میں آپ نے یہ زمین وقف فرمادی تھی پھر وفات کے وقت بھی اس کی تاکید فرمادی۔ بعضوں نے کہاوجعلھا صدقۃکی ضمیر تینوں کی طرف پھرتی ہے یعنی خچر، ہتھیار اور زمین سب کو وقف کردیا تھا۔

اس حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے یوں ہے کہ وقف کا اثر مرنے کے بعد بھی رہتا ہے تو وہ وصیت کے حکم میں ہوا۔

حدیث نمبر : 6740
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا مالك، حدثنا طلحة بن مصرف، قال سألت عبد الله بن أبي أوفى ـ رضى الله عنهما ـ هل كان النبي صلى الله عليه وسلم أوصى فقال لا‏.‏ فقلت كيف كتب على الناس الوصية أو أمروا بالوصية قال أوصى بكتاب الله‏.‏
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیا ن کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا‘ کہا ہم سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر وصیت کس طرح لوگوں پر فرض ہوئی؟ یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا ) کہ لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں کردیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی۔ ( اور کتاب اللہ میں وصیت کرنے کے لئے حکم موجود ہے )

تشریح :    باب کا مطلب اس سے نکلا کہ لوگوں پر وصیت کیسے فرض ہوئی۔ اللہ کی کتاب پر چلنے کا حکم ایک جامع وصیت ہے جو شریعت کے سارے احکام کو شامل ہے‘ جب تک مسلمان اس وصیت پہ قائم رہے اور قرآن وحدیث پر چلتے رہے ان کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی اور جب قرآن وحدیث کو پس و پشت ڈال دیا اور ہر ایک نے اپنی رائے اور قیاس کو اصل بنایا۔ چھوٹ پڑ گئی‘ الگ الگ مذہب بن گئے اور ہر جگہ مسلمان متفرق ہو کر مغلوب ہوگئے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ جزیرئہ عرب کو یہودیوں سے پاک کردینا‘ ذمی کافروں کی ہر ممکن خاطر مدارات کرنا جیسے کہ میں کرتا ہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق وصی ہونے کی کوئی صحیح حدیث کسی بھی مستند کتا ب میں منقول نہیں ہے۔

حدیث نمبر : 6741
حدثنا عمرو بن زرارة، أخبرنا إسماعيل، عن ابن عون، عن إبراهيم، عن الأسود، قال ذكروا عند عائشة أن عليا ـ رضى الله عنهما ـ كان وصيا‏.‏ فقالت متى أوصى إليه وقد كنت مسندته إلى صدري ـ أو قالت حجري ـ فدعا بالطست، فلقد انخنث في حجري، فما شعرت أنه قد مات، فمتى أوصى إليه
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا‘ کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی عبداللہ بن عون سے‘ انہیں ابراہیم نخعی نے‘ ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے یہاں کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ علی کرم اللہ وجہہ ( نبی اکرم کے ) وصی تھے تو آپ نے کہا کہ کب انہیں وصی بنایا۔ میں تو آپ کے وصال کے وقت سر مبارک اپنے سینے پر یا انہوں نے ( بجائے سینے کے ) کہا کہ اپنے گود میں رکھے ہوئے تھی پھر آپ نے ( پانی کا ) طشت منگوایا تھا کہ اتنے میں ( سر مبارک ) میری گود میں جھک گیا اور میں سمجھ نہ سکی کہ آپ کی وفات ہو چکی ہے تو آپ نے علی کو وصی کب بنایا۔

حضرت عائشہ کا مطلب یہ ہے کہ بیماری سے لے کر وفات تک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہی پاس رہے‘ میری ہی گود میں انتقال فرمایا‘ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصی بناتے یعنی اپنا خلیفہ مقرر کرتے جیسے شیعہ گمان کرتے ہیں تو مجھ کو تو ضرور خبر ہوتی پس شیعوں کا یہ دعویٰ بالکل بلا دلیل ہے۔



کتاب الوصایا