لڑکا شادی کا پیغام کیسے دے ؟      -        کیا حالت حیض میں نکاح جائز ہے؟      -        رجب کے کونڈوں کی بدعت      -        بغیر اجازت خاوند کے پیسے نکالنا ۔ ۔ ۔ ؟      -        معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم (حصہ اول)      -        گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور انجام      -        مسئلہ رفع الیدین پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے گفتگو !      -        امام المحدثین محمد بن اسمٰعیل بخاری رحمہ اللہ      -        بیوہ کی دوران عدت منگنی ۔ ۔ ۔ ۔ ؟      -        عید کے روز عورتوں کو وعظ نصیحت کرنا ۔ ۔ ۔ ؟      -        مرزا قادیانی.... کی کذب بیانیاں      -        کیا خاوند بیوی کوغسل دے سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ؟      -        عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم غیروں کی نظر میں      -        کن کن لوگوں سے پردہ کرنا ضروری نہیں؟      -        منافق کی نماز اور ان کا کردار      -        امام المحدثین محمد بن اسمٰعیل بخاری رحمہ اللہ      -        خلع      -        حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سائنس کے اعترافات      -        نبی کریم علیہ السلام کی تعلیمات بہترین نمونہ      -        حاملہ کو طلاق، اسقاط حمل پھر رجوع ۔ ۔ ۔ ؟      -        بے نماز خاوند کے متعلق حکم ۔ ۔ ۔ ؟      -        دوران حمل ہم بستری کرنا ۔ ۔ ۔ ؟      -        اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم      -        عورت کے لیے چہرے کا پردہ ۔ ۔ ۔ ؟      -        خواتین عمرہ سے کیسے فارغ ہوں گی ؟      -        سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درخشاں پہلو !      -        اہلحدیث کی برصغیر میں آمد      -        کیا خواتین کو تکبیرات عید کہنا چاہئے ۔ ۔ ۔ ؟      -        بیوی کا خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف ۔ ۔ ۔ ؟      -        استحکامِ پاکستان اور قادیانی کردار      -        جرابوں پر مسح      -        ایڈز زدہ ماں کا بچے کو دودھ پلانا۔ ۔ ۔ ؟      -        حاملہ چار ماہ بعد خون آنا، نماز کا حکم ۔ ۔ ۔ ؟      -        عورت کو علیحدگی میں دم کرنا کیسا ہے؟      -        عقیدہ ختم نبوت احادیث کی روشنی میں      -        حدیث معاذ کا تحقیقی جائزہ      -        طلاق شدہ لڑکی کا حمل ضائع کرنا ۔ ۔ ۔ ؟      -        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر طائف      -        انکار حدیث حق یا باطل؟ (حصہ سوئم)      -        معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم (حصہ دوئم)      -        انکار حدیث حق یا باطل؟ (حصہ اول)      -        انکار حدیث حق یا باطل (حصہ دوئم)      -        نکاح میں گواہوں کی شرعی حیثیت ۔ ۔ ۔ ؟      -        نیکی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے ۔      -        نماز شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی زبانی      -        محدثین کرام پر اتھامات کا جائزہ      -        بے نماز ہونے کی وجہ سے عورت کو طلاق ۔ ۔ ۔ ؟      -        حدیث میں تدلیس کا مفہوم و اسباب      -        کیا خلع کے بعد رجوع ہو سکتا ہے؟      -        ایک لڑکی نے کسی عورت کا دودھ پیا ۔ ۔ ۔ ؟      -       

 

ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 4

جلد نمبر 39      9 تا 15 محرم الحرام 1429 ھ      19 تا 25 جنوری 2008 ء
احکام و مسائل

ہمارے ایک عزیز نے اپنی بیوی کو طلاق دی جبکہ وہ تین ماہ کی حاملہ تھی، طلاق کے بعد والدین نے اسقاط حمل کرا دیا، اس کے بعد اسے دو دفعہ حیض بھی آ چکا ہے، اب دونوں میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہیں اس کیلئے شرعا کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث کے مطابق جواب دیں۔ ( عبدالمنان۔ صادق آباد )

مختلف حالات کے پیش نظر طلاق یافتہ بیوی کی عدت تین حیض یا وضع حمل یا نوے دن ہے۔ صورت مسؤلہ میں بیوی، طلاق کے وقت حمل سے تھی۔ جس کی عدت بچہ جنم دینے تک ہے لیکن اس کے والدین نے اس کا حمل گرا کر اپنے ذمے قتل ناحق کا جرم لیا ہے جو ہمارے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے، انہیں اس سنگین جرم پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا چاہئے۔

ہم لوگ اپنی اولاد سے خیر خواہی کے جوش میں اللہ کی حدود کو فراموش کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں ہوا ہے ہمارے نزدیک میاں بیوی اب بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ لیکن اس رجوع کیلئے تجدید نکاح کرنا ہو گا، جس کے لئے بیوی کی رضا مندی، سرپرست کی اجازت، حق مہر کی ازسر نو تعیین، گواہوں کی موجودگی اور بنیادی شرائط ہیں۔

ہم اسقاط حمل کو وضع حمل تو شمار نہیں کرتے تاہم طلاق ملنے کے بعد اسقاط حمل کی مدت کو عدت میں ضرور شمار کیا جائے جو کم از کم ایک ماہ سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے، اسقاط کے بعد اسے دو مرتبہ حیض بھی آ چکا ہے، اس طرح پہلی مدت اور دو حیض ملا کر وہ اپنی عدت ختم کر چکی ہے، عدت کے بعد نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے، ایسے حالات میں تجدید نکاح سے رجوع ممکن ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
” اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں اپنے پہلے خاوندوں سے نکاح کرنے میں رکاوٹ نہ بنو، جبکہ وہ معروف طریقے سے آپس میں نکاح کرنے پر راضی ہوں۔ “ ( البقرہ: 232)

ہمارے رجحان کے مطابق میاں بیوی رجوع کر سکتے ہیں لیکن یہ رجوع تجدید نکاح کے بغیر نہیں ہوگا، آئندہ اس قسم کے حالات نہ پیدا ہونے دئیے جائیں۔ نیز والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے روےے پر نظرثانی کریں، اولاد سے محبت کرتے ہوئے اللہ کے غضب کو نہ دعوت دی جائے اللہ تعالیٰ ہمیں صالح عمل کرنے کی توفیق دے۔

 

اس ہفتہ کی کتاب
Awratun kay Imtiazi Masa'il
عورت اور ملازمت
عورت اور سیاست
تعداد ازواج اور اس کی حکمتیں
مسئلہ طلاق ثلاثہ
عورت کا حق خلع اور اس کے مسائل
عورت اور مرد کی نماز کا فرق... more

Warning: include(templates/onlineform.php) [function.include]: failed to open stream: No such file or directory in /home/ahlehadi/public_html/ahlehadith.com/detaila53c.php on line 845

Warning: include(templates/onlineform.php) [function.include]: failed to open stream: No such file or directory in /home/ahlehadi/public_html/ahlehadith.com/detaila53c.php on line 845

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'templates/onlineform.php' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/ahlehadi/public_html/ahlehadith.com/detaila53c.php on line 845