11 سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی بن ابی طالب ، فی غزوۃ تبوک ، فقال : یا رسول اللہ تخلفنی فی النساءوالصبیان ؟ فقال : اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی ؟ غیر انہ لا نبی بعدی
” غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو ( مدینہ ) میں اپنا جانشین مقرر فرمایا ، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ میرے ساتھ آپ کی دینی نسبت ہو ، جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔ ( صحیح بخاری : 3706 ، صحیح مسلم : 2404 واللفظ لہ )
اسماءبنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا :
انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لیس نبی بعدی
” آپ کی اور میری وہ نسبت ہے ، جو موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی تھی ، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ “
( مسند الامام احمد : 369/6 ، 437 ، السنن الکبریٰ للنسائی : 8143 ، مسند اسحاق : 2139 ، السنۃ لابن ابی عاصم : 1346 ، المعجم الکبیر للطبرانی : 146/24 ، مصنف ابن ابی شیبہ : 60/12 ، 61 وسندہ صحیح )
حافظ ہیثمی فرماتے ہیں : رواہ احمد والطبرانی ورجال احمد رجال الصحیح غیر فاطمۃ بنت علی وھی ثقۃ ( مجمع الزوائد : 109/9 )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا یبقی بعدی من النبوۃ شیءالا المبشرات قالوا : یا رسول اللہ ، وما المبشرات ؟ قال الرویا الصالحہ یراھا الرجل او تری لہ
” میرے بعد مبشرات کے علاوہ نبوت میں سے کچھ باقی نہیں ، صحابہ کرام نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول ! مبشرات ( خوشخبریاں) کیا ہیں ؟ فرمایا نیک خواب ، جو آدمی دیکھتا ہے ، یا اسے دکھایا جاتا ہے ۔ “
( زوائد مسند الامام احمد : 129/6 ، البزار ( کشف الاستار : 2118 ) وسندہ حسن )
سعید بن عبدالرحمن العجمی صدوق حسن الحدیث ہے ، المؤتلف للدارقطنی : 177/1 وسندہ حسن
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لم یبق من النبوۃ الا المبشرات ، قالوا : وما المبشرات ؟ قال : الرویا الصالحۃ
” نبوت میں سے مبشرات کے علاوہ کچھ باقی نہیں ، صحابہ نے عرض کی مبشرات کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک خواب ۔ “ ( صحیح بخاری : 699 )
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؟ :
ذھبت النبوۃ فلا نبوۃ بعدی الا المبشرات قیل : وما المبشرات ؟ قال الرویا الصالحۃ یراھا الرجل او تری لہ
” نبوت ختم ہو گئی ہے ، میرے بعد کوئی نبوت نہیں ، سوائے مبشرات کے ، کہا گیا مبشرات کیا ہیں ؟ فرمایا نیک خواب جو آدمی دیکھتا ہے ، یا اسے دکھایا جاتا ہے ۔ “
( البزار ( کشف الاستار : 2121 ، المعجم الکبیر للطبرانی : 3051 وسندہ صحیح )
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رواہ الطبرانی والبزار ورجال الطبرانی ثقات ( مجمع الزوائد : 173/7 )
شیخ المعلمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
اتفق اھل العلم علی ان الرویا لا تصلح للحجۃ وانما ھی تبشیر وتنبیہ ، وتصلح للاستئناس بھا اذا وافقت حجۃ شرعیۃ صحیحۃ
اہل علم اس بات پر متفق اللسان ہیں کہ ( امتی ) کا خواب حجت ( شرعی ) کی صلاحیت نہیں رکھتا ، وہ محض بشارت اور تنبیہ کا کام دیتا ہے ، البتہ جب صحیح شرعی حجت کے مطابق و موافق ہو ، تو مانوسیت و طمانیت کا فائدہ دیتا ہے ۔ ( التنکیل : 242/2 للشیخ عبدالرحمن المعلمی )
سیدنا ابن عباسw کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ایھا الناس ! وانہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الا الرویا الصالحہ یراھا المسلم ، او تری لہ
” اے لوگو ! مبشراتِ نبوت میں سے صرف نیک خواب باقی رہ گئے ہیں ، جو ایک مسلمان آدمی وہ خواب دیکھتا ہے ، یا اسے دکھائے جاتے ہیں ۔ “ ( صحیح مسلم : 479 )
* سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات
” نبوت ختم ہو گئی ہے ، مبشرات باقی ہیں ۔ “
( مسند احمد : 381/6 ، مسند حمیدی : 348 ، ابن ماجہ : 3896 وسندہ حسن )
اس حدیث کو امام ابن حبان ( 6047 ) نے ” صحیح “ کہا ہے ، ابویزید المکی حسن الحدیث ہے ، امام ابن حبان رحمہ اللہ اور امام عجلی نے اس کی توثیق کر رکھی ہے ۔
( سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر کے بعد فرمایا کرتے تھے ، کیا آپ میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اور فرمایا کرتے تھے :
انہ لا یبقی بعدی من النبوۃ الا الرویا الصالحۃ
” یقینا میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہیں ( یعنی نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے ) البتہ نیک خواب باقی ہیں ۔ “
( موطا امام مالک : 956/2 ، مسند احمد : 325/2 ، ابوداؤد : 5017 ، مستدرک حاکم : 390/4 ، وسندہ صحیح )
اس حدیث کو امام ابن حبان ( 6048 ) اور امام حاکم نے ” صحیح “ کہا ہے ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے ۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے ، مبشرات یعنی مسلمان آدمی کے نیک خواب جو اجزائے نبوت میں سے ہیں ، باقی رہیں گے ۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
لو کان نبی بعدی لکان عمر بن الخطاب
” اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا ، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے ۔ “
( ترمذی : 3886 ، مسند الامام احمد : 154/4 ، المعجم الکبیر للطبرانی : 180/17 ، 298 ، مستدرک حاکم : 85/3 ح 4495 ، وسندہ حسن )
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ” حسن غریب “ ، امام حاکم نے ” صحیح الاسناد “ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ” صحیح “ کہا ہے ۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی تشریعی یا غیر تشریعی نہیں آئے گا ، اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی نہ ہوئے ، تو اور کون ہو سکتا ہے ؟
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لقد کان فیمن کان قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء ، فان یکن فی امتی منھم احد فعمر
” آپ سے پہلے جو بنی اسرائیل گزرے ہیں ، ان میں ایسے لوگ بھی تھے ، جن سے کلام کی جاتی تھی ، جبکہ وہ نبی نہیں تھے ، اگر میری امت سے کوئی ہوا ، تو عمر ہوں گے ۔ “ ( صحیح البخاری : 3689 )
ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں :
لقد کان فیما قبلکم من الامم محدثون ، فان یکن فی امتی احد ، فانہ عمر
” پہلی امتوں میں ” محدث “ گزرے ہیں ، اگر میری امت میں کوئی ہوا ، تو عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے ۔ “ ( صحیح بخاری : 3689 ورواہ مسلم : 2398 وغیرہ من حدیث عائشہ )
سیدہ عائشہ کی ایک روایت کے الفاظ ہیں :
ما کان من نبی الا مرفی امتہ معلم او معلمان ، فان یکن فی امتی احد منھم فعمر بن الخطاب
کوئی نبی ایسے نہیں گزرے ، جن کی امت میں ایک دو معلم نہ ہوئے ہوں ، اگر میری امت میں کوئی ہوا ، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں گے ۔ “ ( السنۃ ابن ابی عاصم : 1298 وسندہ حسن ) اس کے راوی عبدالرحمن بن ابی الزناد موثق حسن الحدیث ہیں ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں :
وھو ثقۃ عند الجمہور وتکلم فیہ بعضھم بما لا یقدح فیہ
” یہ جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں ، بعض نے ان میں کلام کی ہے ، جو موجب قدح نہیں ۔ “ ( نتائج الافکار لابن حجر : 304 )
یاد رہے کہ ” محدث “ ، ” مکلم “ اور ” معلم “ کا ایک ہی مطلب ہے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی محدث و مکلم ار معلم اس امت میں ہوا ، تو عمر بن خطاب ہوں گے ، اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر عمر نہ ہوئے تو کوئی بھی نہ ہو گا ۔ یعنی نبی تو درکنار محدث و مکلم اور ملہم بھی نہ ہوگا ۔
اسماعیل بن عبدالرحمن السدی ( حسن الحدیث ) کہتے ہیں :
سالت انس بن مالک قلت : صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی ابنہ ابراھیم ؟ قال : لا ادری ، رحمۃ اللہ علی ابراھیم لو عاش کان صدیقا نبیا
” میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم پر نماز جنازہ پڑھی تھی ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، میں نہیں جانتا ( پڑھی تھی یا نہیں پڑھی تھی ) ابراہیم پر اللہ کی رحمت ہو اگر وہ زندہ ہوتے تو سچے نبی ہوتے ۔ “
( مسند الامام احمد : 280/3 ، 281 ، طبقات ابن سعد ، 140/1 وسندہ حسن )
اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے کہا :
رایت ابراھیم ابن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال : مات صغیرا ، ولو قضی ان یکون بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی عاش ابنہ ، ولکن لانبی بعدہ
” کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے ؟ فرمایا وہ بچپن میں ہی فوت ہوگئے ، اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے زندہ رہتے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ “ ( صحیح بخاری : 6194 ، ابن ماجہ : 1510 ، المعجم الاوسط للطبرانی : 6638 ، تاریخ ابن عساکر : 135/3 )
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا ، اس لئے آپ کا بیٹا ابراھیم زندہ نہ رہا ۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ روزِ قیامت شفاعت کبریٰ کے لئے جہاں دیگر انبیاءعلیہم السلام کے پاس جائیں گے ، وہاں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی جائیں گے اور کہیں گے ، ” اے عیسیٰ ( علیہ السلام ) اپنے رب کے ہاں ہمارے فیصلے کی سفارش کیجئے ، وہ فرمائیں گے کہ اس وقت میں آپ کے کام نہیں آ سکتا ، ” ولکن ائتوا محمداً صلی اللہ علیہ وسلم فانہ خاتم النبیین “ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں ، وہ آخری نبی ہیں ۔ “ وہ آج موجود ہیں ، ان کے پہلے اور بعد کے گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں ، عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے ، بھلا آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر کسی برتن میں سامان رکھ کر مہر لگا دی گئی ہو ، کیا وہ مہر توڑے بغیر اس سامان تک رسائی ممکن ہے ؟ لوگ کہیں گے ، نہیں ، تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے :
” فان محمدا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین “
” یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں ۔ “ ( مسند الامام احمد : 248/3 وسندہ صحیح )
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بڑی پیاری مثال دے کر بات سمجھائی ہے کہ جس طرح مہر توڑے بغیر سامان کا حصول ناممکن ہے ، اسی طرح کام کے لئے مہر والی ہستی کے پاس جانا ہوگا ۔ جو آخری نبی ہیں ۔
لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے کہنے کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر کہیں گے :
یا محمد ، انت رسول اللہ وخاتم الانبیاء
” اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں ۔ “ ( صحیح بخاری : 7412 ، صحیح مسلم : 194 )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی مدعی نبوت ہو گا ، وہ مفتری اور دجال و کذاب ہوگا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے :
ان بین یدی الساعۃ ثلاثین کذابا دجالا کلھم یزعم انہ نبی
” قیامت سے پہلے تیس کذاب دجال پیدا ہوں گے ، وہ سارے کے سارے نبوت کے دعویدار ہوں گے ۔ “ ( دلائل النبوۃ للبیہقی : 480/6 وسندہ حسن )
نیز فرمایا :
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کتابا دجالا کلھم یکذب علی اللہ وعلی رسولہ
” قیامت قائم نہیں ہو گی ، جب تک ( نامور ) تیس کذاب دجال پیدا نہیں ہوں گے ، وہ سارے کے سارے اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتے ہوں گے ۔ “ ( ابوداود : 4334 وسندہ حسن )
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ابیتم فو اللہ انی لانا الحاشر ، وانا العاقب وانا النبی المصطفی آمنتم او کذبتم
” ( اے یہودیو ! تم نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کا انکار کیا ہے ، اللہ کی قسم ! میں حاشر ہوں ( یعنی میرے بعد حشر برپا ہو گا ) میں عاقب ہوں ( یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا ) میں نبی مصطفی ہوں خواہ تم ( مجھ پر ) ایمان لے آؤ یا ( میری ) تکذیب کر دو ۔ “ ( آپ ایمان لائیں یا نہ لائیں ہر صورت میں اللہ کا آخری نبی ہوں ) ( مسند الامام احمد : ج 6 ص 25 ح 24484 وسندہ حسن )
سیدنا سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وانہ واللہ لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذابا آخرھم الاعور الدجال
” اللہ کی قسم ! اس وقت تک قیامت برپا نہیں ہو گی ، جب تک تیس ( نامور ) جھوٹے ( نبی ) پیدا نہیں ہوں گے ۔ ان میں آخری کانا دجال ہوگا ۔ “
( مسند الامام احمد : 16/5 ، طبرانی : 6796 ، 7798 ، 6799 ، مستدرک حاکم : 329/1 ، 330وسندہ حسن ) س حدیث کو امام ابن خزیمہ ( 1397 ) امام ابن حبان ( 2856 ) نے ” صحیح “ اور امام حاکم نے بخاری و مسلم کی شرط پر ” صحیح “ کہا ہے ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے ۔ اس حدیث کو ابوداود ( 1184 ) نسائی ( 1484 ) اور ترمذی ( 562 ) نے مختصرا اسی سند سے روایت کیا ہے ، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو ” حسن صحیح “ قرار دیا ہے ۔
اس کا راوی ثعلبہ بن عباد ” حسن الحدیث “ ہے ، امام ابن خزیمہ ، امام ابن حبان ، امام ترمذی اور امام حاکم نے اس کی حدیث کی ” تصحیح “ کر کے اس کی توثیق کی ہے ، لہٰذا ان کو ” مجہول “ کہنے والوں کا قول مردود ہے ۔ فافھم