کیا خاوند بیوی کوغسل دے سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ؟      -        بے نماز ہونے کی وجہ سے عورت کو طلاق ۔ ۔ ۔ ؟      -        خواتین عمرہ سے کیسے فارغ ہوں گی ؟      -        انکار حدیث حق یا باطل؟ (حصہ سوئم)      -        جرابوں پر مسح      -        معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم (حصہ دوئم)      -        بیوی کا خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف ۔ ۔ ۔ ؟      -        حاملہ چار ماہ بعد خون آنا، نماز کا حکم ۔ ۔ ۔ ؟      -        اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم      -        گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور انجام      -        محدثین کرام پر اتھامات کا جائزہ      -        بے نماز خاوند کے متعلق حکم ۔ ۔ ۔ ؟      -        کیا خلع کے بعد رجوع ہو سکتا ہے؟      -        عقیدہ ختم نبوت احادیث کی روشنی میں      -        طلاق شدہ لڑکی کا حمل ضائع کرنا ۔ ۔ ۔ ؟      -        امام المحدثین محمد بن اسمٰعیل بخاری رحمہ اللہ      -        حاملہ بیوی کو شرط پر طلاق ۔ ۔ ۔ ؟      -        عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم غیروں کی نظر میں      -        بیوہ کی دوران عدت منگنی ۔ ۔ ۔ ۔ ؟      -        اہلحدیث کی برصغیر میں آمد      -        خلع      -        حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سائنس کے اعترافات      -        کیا خواتین کو تکبیرات عید کہنا چاہئے ۔ ۔ ۔ ؟      -        عورت کے لیے چہرے کا پردہ ۔ ۔ ۔ ؟      -        ایڈز زدہ ماں کا بچے کو دودھ پلانا۔ ۔ ۔ ؟      -        نیکی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے ۔      -        حدیث معاذ کا تحقیقی جائزہ      -        حاملہ کو طلاق، اسقاط حمل پھر رجوع ۔ ۔ ۔ ؟      -        رجب کے کونڈوں کی بدعت      -        معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم (حصہ اول)      -        حدیث میں تدلیس کا مفہوم و اسباب      -        دوران حمل ہم بستری کرنا ۔ ۔ ۔ ؟      -        نماز شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی زبانی      -        منافق کی نماز اور ان کا کردار      -        مسئلہ رفع الیدین پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے گفتگو !      -        استحکامِ پاکستان اور قادیانی کردار      -        عید کے روز عورتوں کو وعظ نصیحت کرنا ۔ ۔ ۔ ؟      -        امام المحدثین محمد بن اسمٰعیل بخاری رحمہ اللہ      -        نبی کریم علیہ السلام کی تعلیمات بہترین نمونہ      -        کیا حالت حیض میں نکاح جائز ہے؟      -        لڑکا شادی کا پیغام کیسے دے ؟      -        عورت کو علیحدگی میں دم کرنا کیسا ہے؟      -        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر طائف      -        مرزا قادیانی.... کی کذب بیانیاں      -        ایک لڑکی نے کسی عورت کا دودھ پیا ۔ ۔ ۔ ؟      -        سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درخشاں پہلو !      -        کن کن لوگوں سے پردہ کرنا ضروری نہیں؟      -        بغیر اجازت خاوند کے پیسے نکالنا ۔ ۔ ۔ ؟      -        انکار حدیث حق یا باطل؟ (حصہ اول)      -        نکاح میں گواہوں کی شرعی حیثیت ۔ ۔ ۔ ؟      -       

 

ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 14

جلد نمبر 39      20 رجب تا 26 رجب 1429 ھ      29 مارچ تا 4 اپریل 2008 ء
احکام و مسائل

میرا خاوند مالدار ہونے کے باوجود گھریلو اخراجات کے سلسلہ میں کنجوس واقع ہوا ہے ، کیا میرے لئے جائز ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر میں گھریلو اخراجات کیلئے اتنی رقم لے لوں جس سے گھر کا نظام بآسانی چل سکے ؟ شریعت میں اس کی کہاں تک اجازت ہے ۔ ( ام عطیہ ۔ ڈنگہ )

بیوی اور اولاد کا خرچہ خاوند کے ذمے ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے :
” کشادگی والے کو اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرنا چاہئیے اور جس پر رزق تنگ کیا گیا ہو اسے چاہئیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اس میں سے دے ، اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ۔ “ ( الطلاق : 7 )

نیز حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پر معروف طریقہ کے مطابق ان عورتوں کو کھلانا پلانا اور لباس مہیا کرنا لازم ہے ۔ ( صحیح مسلم ، الحج : 1218 )

بہرحال شریعت نے خاوند پر خرچہ کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی ہے ، جتنی ضرورت ہو اور جتنا ان کو کفایت کر جائے اتنا خرچہ دینا واجب ہے لیکن اگر کوئی خاوند اس خرچہ سے پہلو تہی کرتا ہے یا دیتا تو ہے لیکن اس سے گھر کا نظام نہیں چلتا تو اتنا خرچہ کسی طریقہ سے بھی لیا جا سکتا ہے جو اہل خانہ کیلئے کافی ہو جیسا کہ حضرت ہندہ بنت عتبہ رضی اللہ عنہا جو حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے ، مجھے وہ اتنا خرچہ نہیں دیتا جو میرے لئے اور میرے بچوں کیلئے کافی ہو مگر میں خفیہ طریقہ سے کچھ لے لیتی ہوں کیا ایسا کرنے سے مجھے گناہ تو نہیں ہو گا ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” معروف طریقہ سے اتنا مال لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو جائے ۔ “ ( صحیح بخاری ، البیوع : 2211 )

اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل کا پتہ چلتا ہے :

1     بیوی کے خرچہ کی مقدار متعین نہیں ہے اور نہ اولاد کیلئے کچھ مقرر ہے ، دونوں اخراجات معروف طریقہ سے ادا کئے جائیں ۔

2      اگر شوہر اور والد اپنے اوپر واجب خرچہ ادا نہ کریں تو بیوی اور اولاد کو اتنا خرچہ لینے کی اجازت ہے جو انہیں کافی ہو ۔

3      واجب حقوق میں جس کی مقدار اللہ اور اس کے رسول نے مقرر نہیں کی ، اس میں عرف کو ملحوظ رکھا جائے گا ۔

صورت مسؤلہ میں سائلہ کو خاوند کے مال سے معروف طریقہ کے مطابق اتنا لینے کی اجازت ہے جس سے گھر کا نظام چل سکے ، لیکن ضروریات کی آڑ میں فضولیات کا دروازہ نہ کھولا جائے اور فیشن پرستی اور فضول خرچی کی گنجائش اس حدیث سے پیدا نہیں ہوتی ۔ اگرچہ خرچہ کی مقدار مقرر نہیں ہے کیونکہ مقدار مقرر کرنا ظلم کے مترادف ہے بہرحال جتنی ضرورت ہو اور جس قدر کفایت کر جائے خاوند کے مال سے اجازت کے بغیر لینے کی شرعاً گنجائش ہے ۔ ( واللہ اعلم )

 

اس ہفتہ کی کتاب
Awratun kay Imtiazi Masa'il
عورت اور ملازمت
عورت اور سیاست
تعداد ازواج اور اس کی حکمتیں
مسئلہ طلاق ثلاثہ
عورت کا حق خلع اور اس کے مسائل
عورت اور مرد کی نماز کا فرق... more

Warning: include(templates/onlineform.php) [function.include]: failed to open stream: No such file or directory in /home/ahlehadi/public_html/ahlehadith.com/detail58a6.php on line 792

Warning: include(templates/onlineform.php) [function.include]: failed to open stream: No such file or directory in /home/ahlehadi/public_html/ahlehadith.com/detail58a6.php on line 792

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'templates/onlineform.php' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/ahlehadi/public_html/ahlehadith.com/detail58a6.php on line 792