ھوم پیج 30 شمارہ نمبر 40 جلدنمبر
درس قرآن
اللہ کی تاءید ونصرت

”پھر اللہ نے اپنی طرف سے اپنے نبی پر اور مومنوں پر تسکین نازل کی اور اپنے وہ لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے اور کافروں کو پوری سزا دی اور ان کافروں کا یہی بدلہ تھا۔ پھر اس کے بعد بھی اللہ جس کی چاہے گا توبہ قبول کرے گا اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔“
غزوہ حنین میں مسلمانوں کی کثرت تعداد نے انہیں اس زعم میں مبتلا کر دیا کہ آج ہم بارہ ہزار کی تعداد میں ہیں آج ہم پر کوئی بھی غالب نہیں آ سکے گا۔ اللہ نے ان کے اس خیال کی نفی کے لئے انہیں ابتدائی طور پر فتح و کامرانی سے محروم کر دیا جس کے نتیجے میں اسلامی فوج منتشر ہو گئی مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند جانثاروں کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہے لہٰذا اللہ کی طرف سے اس تنبیہہ و تذکیر کے بعد مسلمانوں کے دلوں میں حوصلہ پیدا ہوا۔ اللہ نے اپنے نبی اور مومنوں کو قرار اور سکون عطا کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تمام مجاہدین جمع ہو گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب اس آواز پر بکھرے ہوئے ساتھی پھر جمع ہوئے تو اللہ نے شکست کے بعد فتح سے نوازا۔ مومنوں کے ہاتھوں کفار کو وہ سزا ملی جو ان کے لئے مقدر ہو چکی تھی، مسلمانوں کا جم کر لڑنا اور اللہ کی غیبی امداد جو فرشتوں کی صورت میں کی گئی کافروں کی شکست کا باعث بنی۔ اللہ نے اس لڑائی میں مسلمانوں کی امداد کے لےے جس طرح غزوہ بدر میں فرشتے نازل کئے تھے اسی طرح فرشتوں کی فوجیں نازل فرما دیں جو ہر جگہ مسلمانوں کے ہمرکاب ہوتی رہیں اور اللہ تعالیٰ کافروں کو مسلمانوں کے ہاتھوں رسوا کرتا رہا۔ مسلمان جب بھی اللہ کی طرف رجوع کریں اللہ ان کی مدد کرتا ہے اور جب مسلمانوں کے سربراہوں یا افراد کے دلوں میں اللہ کے خوف کے علاوہ دنیا و دنیا والوں کا خوف پیدا ہو جائے تو اللہ بھی اپنی نصرت ہٹا لیتا ہے، چونکہ کچھ مسلمانوں سے غیر ارادی طور پر غزوہ حنین میں لغزش ہو گئی تھی کہ پہلے عجب کا شکار ہوئے پھر میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے لہٰذا اللہ نے بشارت دی کہ ان کی توبہ قبول ہوئی اور مسلمانوں کو شکست کے بعد فتح نصیب ہوئی اور قیامت تک مسلمانوں کو خوشخبری سنا دی کہ جو بھی اللہ کی طرف رجوع کرے گا اللہ اسے اسی طرح نصرت عطا فرمائے گا، اللہ تعالیٰ بخشنے والا بھی ہے رحم کرنے والا بھی ہے۔ (جاری)

 

درس حدیث

امام کی اقتدا

”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداءکی جائے جب وہ اللہ اکبر کہے تم بھی اللہ اکبر کہو اور امام کے اللہ اکبر کہنے سے پہلے اللہ اکبر نہ کہو۔ جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور تم رکوع میں نہ جاﺅ، حتیٰ کہ امام رکوع میں چلا جائے۔ اور جب وہ (امام) سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو تم اس وقت تک سجدے میں نہ جاﺅ جب تک امام سجدے میں نہ جائے۔ جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ (ابوداﺅد)
یہ حدیث اپنے مفہوم کو بیان کرنے میں بڑی واضح ہے۔ اس حدیث میں امام کی اقتداءکرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ جب امام نماز شروع کرنے کے لئے اللہ اکبر کہے تو اس کے بعد اللہ اکبر کہہ کر اپنی نماز شروع کی جائے کسی بھی رکن کو ادا کرنے میں اما م سے پہل نہ کی جائے، رکوع سے امام سے پہلے سر اٹھانے کے بارے میں تو سخت وعید فرمائی گئی ہے کہ جو شخص امام سے پہلے رکوع سے سر اٹھائے گا اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کا بنا دے گا۔ امام کی اقتداءکا یہ معنیٰ بھی نہیں کہ جب امام کسی رکن کی ادائیگی سے فارغ ہو جائے تب مقتدی وہ رکن ادا کرے بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کے پیچھے پیچھے ارکان ادا کرتا رہے اس سے پیش قدمی نہ کرے امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے پیچھے سکون کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔ امام سے آگے بڑھنا جائز نہیں ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جب امام نماز شروع کرنے کے لئے اللہ اکبر کہہ لے تو تم بھی اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرو اور جب وہ سلام پھیر دے تو تم بھی سلام پھیر دو۔ اس حدیث میں امام کی اقتداءکے سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ جب امام کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب بیٹھ کر پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداءحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کر رہے تھے اور وہ کھڑے تھے اور ان کی اقتداءتمام نمازی کر رہے تھے اور وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے جس سے ثابت ہوا کہ بیٹھ کر امام کی اقتداءمیں نماز پڑھنے کا حکم حضور کے آخری عمل سے منسوخ ہو چکا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

آپ بھی پوچھیے

سابقہ شمارہ جات سے اہم مضامین
امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر کا
خطبہ جمعة المبارک
عقیدہ حق توحید یا تثلیث؟

اخلاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم

اہل حدیث ایک وصفی نام
بدعات کے انتشار کے چند اسباب
انٹرویو
حضرت مولانا حافظ محمد یحییٰ عزیز میر محمدی رحمہ اللہ
”مجلس شوریٰ“ کے اجلاس کی جھلکیاں
زرداری ہٹاو¿ .... ملک بچاو¿
جمال مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
اسلام دہشتگردی نہیں سکھاتا
اسلام کا سیاسی نظام
تنظیم کی کہانی تنظیم کی زبانی
چوہدری علی ارشد کی وفات
ربیع الاول کے تقاضے
اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری زندگی
اہل تصوف کی فکری گمراہیاں
جمعیت اہلحدیث اٹلی کی سرگرمیاں
تنظیم کی کہانی تنظیم کی زبانی
مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی رحمة اللہ علیہ
فتنہ انکار حدیث تیرہویں صدی ہجری میں
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمة اللہ علیہ
صبر واستقامت
عظمت سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم
غوث اعظم کون؟
اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
محمود غزنوی اور شہاب الدین
لقب اہلحدیث (تفہیم وترویج)
سود اور اس کا خاتمہ کس طرح
نااہل حکمران اور قیامت کی نشانیاں
لقب اہلحدیث ۔۔۔تیسری قسط
محمد عبداللہ شیخوپوری رحمۃ اللہ علیہ
بے لو ث مصلح
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
غسل کے مسائل
مولانا محمد عبداللہ گورداس پوری کا انٹرویو
اسماعیل حلیم رحمۃ اللہ علیہ
تصوف کے برگ وبارقسط نمبر2
اتفاق واتحاد
تقدیر الٰہی کا اثبات
اسلام ،عورت اور پردہ
مولانا ابو الکلام آذادکی صحافت
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
الصحیح البخاری
خبیب رضی اللہ عنہ مصلوب کا حرف آخر
بدعت کی تباہ کاریاں
صوفی محمد اور جمہوریت
مسلمان کیسے غالب ہوں ؟؟
تحریک ختم نبوت اور مرا داخل زنداں ہونا
مولانا محمد علی جانباز رحمۃ اللہ علیہ
لقب اھل حدیث
سودکے خاتمے کے لیے اسلامی اقتصادی ماہرین اور قاءدین کی افسوسناک لاپرواہی
مرکز ضیاء اسلام وہاڑی میں امیر محترم کا خطبہ جمعۃ المبارک
تصوف کی تاریخ
محترم ڈاکٹر محمد بہاؤالدین سلفی کا مکتوب گرامی
لفظ پیغمبر انبیا ء ورسل کے ساتھ خاص ہے