سوال: ایک آدمی فوت ہوا اس کا زرعی رقبہ بائیس کنال تھا، پسماندگان میں سے بیوہ، بہن اور چار بیٹیاں ہیں، ہر ایک کو مرحوم کی زمین سے کتنا حصہ ملے گا۔ (قاری محمد حسن سلفی۔ ساہیوال) جواب: اولاد کی موجودگی میں بیوہ کو آٹھواں حصہ ملتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اور اگر میت کی اولاد ہو تو بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔“ (النسائ:12) میت کے ترکہ سے بیٹیوں کے لئے دو تہائی 2/3 ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اور اگر اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں اور وہ دو سے زائد ہوں تو ان کا ترکہ سے دوتہائی ہے۔“ (النسائ: 11) بیٹیوں کی موجودگی میں بہن عصبہ ہوتی ہے یعنی مقررہ حصہ والوں سے بچا ہوا ترکہ پاتی ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی، پوتی اور بہن کی موجودگی میں فیصلہ فرمایا، بیٹی کو آدھا دیا جائے، پوتی کو چھٹا حصہ تا کہ ان کا 2/3 پورا ہو جائے پھر جو باقی بچے وہ بہن کا ہے۔ (صحیح بخاری، الفرائض: 6736) سہولت کے پیش نظر ہم کل ترکہ کو 24 حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں، ان میں 1/8 یعنی تین حصے بیوہ کو 2/3 یعنی سولہ حصے چار بیٹیوں کو اور باقی پانچ حصے بہن کو دئیے جائیں۔ میت کی جائیداد بائیس کنال زرعی زمین ہے جس کے 440 مرلے بنتے ہیں، انہیں چوبیس پر تقسیم کیا تو ایک حصہ نکل آئے گا جو 18.33 ہے اس حساب سے بیوہ کا حصہ 55 مرلے، چار لڑکیوں کا حصہ 294 مرلے، ہر لڑکی 73:1/2 مرلے ملیں گے، باقی 91 مرلے بہن کو مل جائیں گے۔ واللہ اعلم سوال:بچے کی پیدائش پر عقیقہ کرنے کے بجائے اگر اس کی قیمت کسی غریب کو دے دی جائے تا کہ وہ اپنی اس رقم سے کوئی ضرورت پوری کرے تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے، کتاب و سنت کی روشنی میں راہنمائی کریں۔ (محمد لقمان۔ لاہور) جواب:عقیقہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی ہوتا ہے، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال منڈوائے جائیں۔ (ابوداﺅد، الضحایا: 2839) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولاد ایک بہت بڑی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت کا شکر ادا کرنا ضروری قرار دیا ہے، اس لئے شریعت نے بچے کی پیدائش کے ساتویں روز عقیقہ مشروع قرار دیا ہے تا کہ اللہ کی نعمت کے حصول پر اس کا شکر بھی ادا ہو جائے اور اقرباءاور دوست و احباب کی ضیافت کے ساتھ ساتھ غرباءاور مساکین کا بھی فائدہ ہو جائے۔ ہمارے رجحان کے مطابق جانور کی قیمت کسی غریب کو دینے کے بجائے جانور ہی ذبح کرنا چاہےے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور ہی ذبح کرنے کا حکم دیا ہے اور عملی طور پر حضرت حسن اور حضرت حسینرضی اللہ عنہم کی پیدائش پر جانور ہی ذبح کئے تھے، اس کے متعلق روایات میں بہت تاکید آئی ہے، اس لئے ولیمہ اور قربانی کی طرح جانور کو ذبح کرنا ہی افضل ہے۔ اتباع سنت کا یہی تقاضا ہے کہ عقیقہ کی رقم کسی کو دینے کی بجائے جانور ہی ذبح کیا جائے۔ (واللہ اعلم) سوال:کیا شفعہ صرف زمین یا مکان میں ہوتا ہے؟ نیز شفعہ کا حقدار کون ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی اس کی وضاحت کر دیں؟؟ (عبدالقدوس۔ مانگا منڈی) جواب:شریک کے اس حصے کو مقررہ معاوضہ کے بدلے شریک کی طرف منتقل کرنا جو اجنبی کی طرف منتقل ہو گیا تھا، شفعہ کہلاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: شفعہ ہر مشترکہ چیز میں ہے خواہ زمین یا مکان یا باغ وغیرہ۔ (مسند امام احمد ص316، ج3) حضرت جابررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا فیصلہ دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو۔ (صحیح بخاری، الشفعہ:2257) شفعہ کا سبب صرف شراکت ہے اور وہ ہر چیز میں عام ہے، زمین ہو یا گھر یا پانی کی ندی ہو۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (ابوداﺅد، البیوع:3513) احادیث کی رو سے پڑوسی کے لئے شفعہ کا حق ہے بشرطیکہ ان کے گھر کا راستہ ایک ہو جیسا کہ حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمسایہ اپنے ہمسائے کا شفعہ میں زیادہ حقدار ہے، شفعہ کی وجہ سے اس کا انتظار کیا جائے گا اگرچہ وہ غائب ہو بشرطیکہ دونوں کا راستہ ایک ہو۔ (ابوداﺅد، البیوع: 3518) یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ مجرد ہمسائیگی کے ذریعے حق شفعہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے مشترک راستہ ہونا ضروری ہے، اس کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے: ”جب حد بندی ہو جائے اور راستے جدا جدا ہو جائیں تو پھر شفعہ کا استحقاق نہیں ہوتا۔ (صحیح بخاری، الشفعہ: 2257) ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گھر تقسیم کر دیا جائے اور اس کی حد بندی کر دی جائے تو اس میں کوئی حق شفعہ نہیں ہے۔ (ابوداﺅد، البیوع: 3515) ہمارے ہاں یہ غلط رواج ہے کہ اگر کسی نے گھر یا پلاٹ خریدا ہے تو کھیوٹ کھتونی میں شراکت رکھنے والا کوئی بھی شفعہ کر سکتا ہے اگرچہ وہ اس کا ہمسایہ نہ ہو، بہرحال اگر گھر یا پلاٹ کی حد بندی ہو چکی ہو اور راستے متعین ہوں تو اس میں شفعہ نہیں ہوسکتا۔ (واللہ اعلم) سوال:کیا سونے اور چاندی کے برتن خوبصورتی اور زینت کے لئے گھر میں رکھنا جائز ہیں یا نہیں، قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں؟؟ (عبدالقدوس۔ لاہور) جواب:سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا اور پینا تو بالاتفاق جائز نہیں ہے، چنانچہ حضرت حذیفہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو اور نہ ہی ان سے بنی ہوئی پلیٹوں میں کھاﺅ، کیونکہ دنیا میں یہ کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔ (صحیح بخاری، الاطعمہ:5424) حضرت ام سلمہرضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتنوں میں (کھاتا) پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ (بخاری، الاشربة:5634) امام شوکانی ؒ نے لکھا ہے کہ ہر چیز میں اصل حلت ہے، جس کی حرمت موجود نہیں وہ حلال ہے، اس لئے چاندی اور سونے کے برتنوں کو کھانے پینے کے علاوہ کسی بھی استعمال کے لئے رکھا جا سکتا ہے۔ (نیل الاوطار ص 127) لیکن ہمیں اس موقف سے اتفاق نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پینے کی حرمت بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے یہ برتن کافروں کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں، اس بناءپر ہمارا رجحان ہے کہ یہ کھانے پینے کے علاوہ گھر کی خوبصورتی کے لئے بھی نہ رکھے جائیں کیونکہ اس میں اپنے مال کی نمود نمائش اور اسراف و تبذیر ہے۔ اس بناءپر سونے اور چاندی کے برتنوں سے اجتناب کیا جائے۔ سوال:کیا عورت کوئی جانور ذبح کر سکتی ہے، اگر عورت ذبح کرے تو اس جانور کا گوشت کھایا جا سکتا ہے؟؟ (قاری نور محمد۔۔ سیالکوٹ) جواب:قرآن و حدیث میں عورت کے متعلق کوئی ممانعت نہیں ہے کہ وہ ذبح نہ کرے یا اس کا ذبیحہ ناجائز ہے، اس لئے عورت ذبح بھی کر سکتی ہے اور عورت کا ذبح کردہ جانور کھایا بھی جا سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک عورت نے پتھر کی دھار کے ساتھ بکری کو ذبح کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری، الوکالہ: 2304) اس حدیث سے دومسائل کا پتہ چلا: ٭ ذبح کرنے کے لئے صرف چھری ہی نہیں بلکہ ہر تیز دھار سے ذبح کیا جا سکتا ہے۔ ٭ عورت ذبح کر سکتی ہے اور اس کا ذبح کیا جانور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سوال:ہمارے معاشرہ میں کچھ عورتیں اپنی پڑوسن سے بوقت ضرورت آٹا لے لیتی ہیں، پھر چند دنوں کے بعد واپس کر دیتی ہیں، ایک عالم دین نے مسئلہ کیا ہے کہ ایسا کرنا سود ہے براہ کرم اس کی وضاحت کریں؟؟ (ابراہیم بن محمد۔۔ ملتان) جواب:خرید و فروخت کرتے وقت اگر ایک ہی جنس کی دو اشیاءکا تبادلہ کیا جائے تو دو چیزوں کا خیال رکھا جائے۔ ٭کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ نہ ہو۔ ٭ دونوں طرف سے نقد ہو۔ اگر کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ کیا یا ایک طرف ادھار اور دوسری طرف سے نقد تو ایسی دونوں صورتیں سود ہیں، جیسا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا، سونے کے بدلے، چاندی، چاندی کے بدلے، گندم، گندم کے بدلے، جو، جو کے بدلے، کھجور، کھجور کے بدلے اور نمک، نمک کے بدلے یہ تمام اشیاءبرابر، برابر اور نقد بنقد فروخت کی جائیں پھر جو زیادہ لے یا زیادہ دے تو اس نے سودی کاروبار کیا۔ سود لینے والا اور سود دینے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔ (صحیح مسلم، المساقاة: 1584) واضح رہے کہ تجارت میں سود کی دو قسمیں ہیں: ٭ ربا الفضل: ایک جنس کی دو اشیاءکو کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنا۔ ٭ربا النسیئہ: اس میں کمی بیشی تو نہ ہو لیکن ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار کا معاملہ ہو، سود کی یہ دونوں اقسام خرید و فروخت سے متعلق ہیں، البتہ معاشرتی طور پر ایک گھر والا اپنے پڑوسی سے وقتی طور پر کوئی چیز لیتا ہے۔ مثلاً گندم، آٹا، گھی اور چینی وغیرہ اور پھر چند دنوں بعد میسر آنے پر اسے واپس کر دیتا ہے تو یقینا خرید و فروخت نہیں بلکہ تعاون باہمی کا ایک طریقہ ہے، اسے کسی صورت میں ناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ (واللہ اعلم)
اداریہ احکام ومسائل درس قرآن و حدیث یاد رفتگانطب مضامین سابقہ شمارہ جاتاخبار الجماعةرابطہ
آپ بھی پوچھیے
اخلاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم